“کوئٹہ میں شدید سردی اور ‘گیس کا قحط’: درجہ حرارت منفی ہونے کے باوجود گیس غائب، بچے خالی پیٹ اسکول جانے پر مجبور، شہری احتجاج پر آمادہ”

کوئٹہ (قدرت روزنامہ) بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ اس وقت سخت سردی کی لپیٹ میں ہے اور درجہ حرارت منفی درجوں تک جا پہنچا ہے، مگر شہر کے بیشتر علاقوں میں گیس کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقے جن میں سریاب، بروری، ہزارہ ٹاؤن، سمنگلی روڈ اور دیگر شامل ہیں، وہاں یا تو گیس کا پریشر نہ ہونے کے برابر ہے یا پھر گیس مکمل طور پر بند ہے۔ گیس کی بندش نے خواتین کے لیے گھریلو کام کاج، کھانا پکانے اور پانی گرم کرنے کے روزمرہ امور کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں مہنگی اور خطرناک لکڑی، کوئلہ یا ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ گیس نہ ہونے کے باعث بچے صبح کا ناشتہ تیار نہ ہونے کی وجہ سے خالی پیٹ اسکول جانے پر مجبور ہیں، جو ان کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ شہریوں نے شکایت کی ہے کہ ہر سال سردی میں یہی بحران پیدا ہوتا ہے، مگر سوئی سدرن گیس کمپنی کے وعدے محض بیانات تک محدود رہتے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر گیس کا پریشر بحال نہ کیا گیا تو وہ بھرپور احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
