این ایف سی ایوارڈز کے باوجود بلوچستان کے 17 اضلاع انتہائی کمزورملک کا کمزور ترین صوبہ قرار

بلوچستان میں صحت، تعلیم، پانی، رہائش اور ذرائع آمدن میں بدترین تنزلی65فیصد آبادی کچے گھروں تک محدود


بلوچستان کے 17 انتہائی کمزور اضلاع رپورٹ کا بدترین پہلو ہے، فوری فیصلوں کی ضرورت ہے،مصدق ملک
کوئٹہ(قدرت روزنامہ)ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق این ایف سی ایوارڈز کے تحت کھربوں روپے کے اضافی مالی وسائل ملنے کے باوجود بلوچستان اور خیبرپختونخوا ترقی کے میدان میں بدستور پیچھے ہیں، جبکہ پنجاب انسانی ترقی میں سب سے آگے ہے۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے 17 اضلاع اور خیبرپختونخوا کے 2 اضلاع ملک کے انتہائی کمزور اضلاع کی فہرست میں شامل ہیں، جبکہ پنجاب میں کوئی بھی ضلع اس کیٹیگری میں شامل نہیں۔اسلام آباد میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مصدق ملک نے ڈسٹرکٹ ولنرایبلٹی انڈیکس فار پاکستان رپورٹ جاری کی جس میں واضح کیا گیا کہ صوبائی دارالحکومتوں کا وسائل پر سخت کنٹرول ملک کی بڑی آبادی کو پسماندگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔
رپورٹ میں ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت اضافی فنڈز کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے کہ صوبوں کو ملنے والی بھاری رقوم اپنے عوام کی ترقی کے بجائے وفاقی قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق 20 انتہائی کمزور اضلاع میں سے 17 بلوچستان، 2 سابق فاٹا اور 1 سندھ کا ضلع شامل ہے، جبکہ کم کمزور اضلاع میں 13 پنجاب، 4 سندھ اور 2 خیبرپختونخوا کے اضلاع شامل ہیں۔ بلوچستان کا کوئی بھی ضلع کم کمزور درجہ بندی میں موجود نہیں۔
پانچ کمزور ترین اضلاع میں بلوچستان کے چار اضلاع واشک، خضدار، کوہلو، ژوب اور خیبرپختونخوا کا ضلع کوہستان شامل ہیں۔ انتہائی کمزور فہرست میں ڈیرہ بگٹی، موسی خیل، نصیرآباد، شیرانی، جھل مگسی، چاغی، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، آواران، خاران، ہرنائی، قلات، پنجگور اور تھرپارکر بھی موجود ہیں۔رپورٹ کے مطابق 20 انتہائی کمزور اضلاع کی 65 فیصد آبادی کچے گھروں میں رہتی ہے، 40 فیصد کو صاف پانی تک رسائی نہیں جبکہ نصف آبادی کو ٹائلٹ سہولت میسر نہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا دونوں صحت کی سہولتوں میں کمزور ترین صوبے ہیں اور اضلاع کے درمیان صحت کی سہولتوں میں شدید عدم مساوات پائی جاتی ہے۔
تعلیم تک رسائی میں بھی بلوچستان سب سے کمزور صوبہ قرار دیا گیا ہے، جہاں تدریسی مراکز تک طویل فاصلوں کی وجہ سے صورتِ حال مزید خراب ہے۔وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا کہ 11.3 فیصد یا ایک کروڑ افراد 20 انتہائی کمزور اضلاع میں رہتے ہیں، جن میں 20 لاکھ بالغ خواتین اور اتنی ہی تعداد میں پانچ سال سے کم عمر بچے شامل ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صاف پانی، تعلیم اور محفوظ رہائش تک رسائی بنیادی حقوق ہیں، اور ان سہولتوں میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات فوری توجہ کی متقاضی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے اضلاع میں پسماندگی کی بڑی وجہ دہشتگردی سے شدید متاثر ہونا بھی ہے، جبکہ انفراسٹرکچر کی کمزوری پکی سڑکوں، ٹرانسپورٹ رابطوں اور ٹیلیفون سروس کی کمی ترقی کی رفتار کو مزید سست کر رہی ہے۔

WhatsApp
Get Alert