بلوچستان کے 8 اضلاع کیلئے ورلڈ بینک کے 14 ارب روپے؟ رقم خرچ، نتائج مشکوک — زمینی حقائق پر سنگین سوالات کھڑے

کوئٹہ (قدرت روزنامہ)بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے BLEP کیلئے ورلڈ بینک کی جانب سے منظور کیے گئے 14 ارب روپے سے زائد فنڈز کے استعمال پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں، جب کہ منصوبے کی مدت فروری 2026 تک ہے اور سرکاری دستاویزات کے مطابق بیشتر رقم خرچ کی جاچکی ہے، مگر آٹھ اضلاع— قلعہ عبداللہ، قلعہ سیف اللہ، چاغی، شیرانی، پشین، مستونگ، ژوب اور نوشکی— میں زمینی صورت حال اس خرچ کی تائید نہیں کرتی۔
منصوبے کے تحت دعویٰ کیا جاتا ہے کہ 40 ہزار سے زائد گھرانوں کی زندگی بدلی گئی، مگر عوامی حلقوں، مقامی نمائندوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ ترقی اور سہولتیں یکساں نہیں پہنچیں، کئی خاندان سروے اور سپورٹ سے محروم رہے اور بعض غیر مستحق افراد کو فائدہ ملنے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
فنڈز کے استعمال، بینیفشری کے انتخاب اور شفافیت کے حوالے سے بھی سنجیدہ اعتراضات اٹھ رہے ہیں، جبکہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ کاغذوں میں دکھائے گئے نتائج زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ عوامی سوال یہ ہے کہ پروجیکٹ ڈائریکٹر رب نواز کے دور میں بہتر کام ہوا یا موجودہ پی ڈی جبار کے زمانے میں شفافیت اور کارکردگی میں کوئی حقیقی بہتری آئی؟ منصوبے کے مالیاتی ریکارڈ اور اثرات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
