“”اٹھارویں ترمیم سے پہلے 62 کے 62 ارکان وزیر تھے، پارلیمانی سیکرٹری وزیر نہیں ہوتا اور نہ ہی دستخط کا اختیار رکھتا ہے — سرفراز بگٹی”

اسلام آباد (قدرت روزنامہ) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی کابینہ میں وزرا کی تعداد آئینی طور پر محدود کر دی گئی ہے، جبکہ پارلیمانی سیکرٹریز کو وزیر یا محکمہ سربراہ کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ “اٹھارویں ترمیم سے پہلے بلوچستان میں 62 کے 62 ارکان اسمبلی وزیر ہوا کرتے تھے، مگر ترمیم کے بعد یہ طے ہوگیا کہ کابینہ میں کتنے وزرا شامل ہو سکتے ہیں۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری کا دائرہ اختیار محض پارلیمنٹ کے اندر محکمے کا بزنس چلانے، سوالات کے جواب دینے اور وزیر اعلیٰ کی معاونت تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری نہ پالیسی دے سکتا ہے اور نہ ہی دستخط کا اختیار رکھتا ہے، کیونکہ محکمے کا انچارج صرف متعلقہ وزیر ہوتا ہے۔ سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ حکومت نے صرف سہولت کے لیے پارلیمانی سیکرٹریز کو دفاتر فراہم کیے ہیں تاکہ وہ اسمبلی امور بہتر انداز میں چلا سکیں، “ہم نے کبھی پارلیمانی سیکرٹری کو وزیر کہا ہے نہ بنایا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا اختیار ہے کہ جسے چاہے پارلیمانی سیکرٹری مقرر کرے، تاہم یہ تعیناتی محکمے کی سربراہی کا اختیار نہیں دیتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمانی سیکرٹری صرف وزیر کی موجودگی میں سوالات کے جواب دے سکتا ہے مگر پالیسی سازی یا انتظامی اختیار مکمل طور پر متعلقہ وزیر کے پاس ہی رہتا ہے۔
