بلوچستان:لیویز فورس میں جعلی ترقیوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، 4 ملزمان گرفتار، مقدمہ درج


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)لیویز فورس بلوچستان میں بدعنوانی اور غیر قانونی ترقیوں سے متعلق موصول ہونے والی خفیہ رپورٹ، مختلف شکایات اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی معلومات کی بنیاد پر اینٹی کرپشن نے ایکشن لیتے ہوئے جعلی ترقیوں کا بڑا اسکینڈل بے نقاب کر دیا ہے اور متعدد افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر اینٹی کرپشن قمبر بلوچ کی ہدایت پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر (انویسٹی گیشن) زبیر احمد علی زئی نے ریکارڈ حاصل کر کے جب معاملے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ ضلع ژوب میں 20 لیویز سپاہیوں (گریڈ 07) کو جعلی ترقیاتی احکامات کے ذریعے حوالدار (گریڈ 09) کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ یہ تمام احکامات بغیر منظوری اور تصدیق کے جاری کیے گئے تھے۔ اسی طرح ضلع کیچ کے 6 لیویز اہلکاروں کی غیر قانونی ترقیوں کی بھی تصدیق ہوئی جبکہ ضلع قلعہ سیف اللہ و دیگر میں رسالدار سے رسالدار میجر تک کی جانے والی ترقیات کو بھی مکمل طور پر جعلی قرار دیا گیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل لیویز فورس بلوچستان اور ہوم ڈیپارٹمنٹ بلوچستان نے باضابطہ طور پر ان تمام ترقیاتی احکامات کو بوگس اور جعلی قرار دیا۔تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ترقیاتی احکامات کی تیاری، جعلی دستخط اور ریکارڈ میں رد و بدل کے عمل میں متعدد افسران اور اہلکار ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران جمشید گل (سابق سیکشن آفیسر)، سید عابد شاہ (لیویز محرر / جونیئر کلرک)، رسالدار محمد طاہر اور سلیم لاشاری (اسسٹنٹ / قائم مقام پرائیویٹ سیکریٹری) کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مزید برآں، تحقیقات میں یہ بھی ثابت ہوا کہ رسالدار عبداللہ خان، رسالدار غلام مرتضی، رسالدار سید طارق شاہ اور محمد عارف بھی اس جعل سازی اور غیر قانونی ترقیوں میں شامل ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ان کی گرفتاریوں کا قوی امکان ہے۔تحقیقات سے یہ حقیقت ثابت ہوئی کہ ملزمان نے باہمی ملی بھگت سے جعلی دستاویزات تیار کیں، ریکارڈ میں رد و بدل کیا اور غیر قانونی ترقیوں کا پورا عمل منظم طریقے سے چلایا۔ معاملہ مزید قانونی کارروائی کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جبکہ اینٹی کرپشن بلوچستان کی جانب سے بلا امتیاز کارروائی جاری ہے۔

WhatsApp
Get Alert