27ویں ترمیم نے ادارے فرد واحد کے ماتحت کر دیے، ملک کو بحران سے نکالنے کا واحد حل نئے انتخابات ہیں، عبدالرحیم زیارتوال

کوئٹہ (ڈیلی قدرت) پشتونخوامیپ کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے ویڈیو پیغام کے مطابق 26نومبر کے شہدا کی یاد میں کوئٹہ سمیت دیگر اضلاع میں شہد اکو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے فاتحہ خوانی، تعزیتی ریفرنسز، مظاہروں کا انعقاد کیا گیا۔ کوئٹہ میں منعقدہ تعزیتی اجتماع سے پشتونخوامیپ کے مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال اورپی ٹی آئی کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ ودیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ پشین میں پشتونخوامیپ کے ضلعی سیکرٹری عمر خان ترین، پی ٹی آئی کے صوبائی صدر داؤد شاہ کاکڑ، نور خان خلجی، پی ٹی آئی کے ضلعی صدر شاہ نواز کھرل نے خطاب کیا۔ عبدالرحیم زیارتوال کوئٹہ میں تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2024کے الیکشن میں انتخابی نشان چھیننے کے باوجود تحریک انصاف واضح اکثریت سے جیت چکی تھی لیکن رات 9بجے کے بعد فوجی سٹیبلشمنٹ کی کھلی مداخلت زر اور ریاستی زور سے تمام ملک کے نتیجے کو تبدیل کیا گیا اور من پسند نام نہاداور فارم47کے نمائندوں کی پارلیمنٹ، حکومت عوام پر مسلط کی گئی۔ سیاسی جمہوری برحق مطالبات اور اپنا مینڈیٹ واپس مانگنے کی پاداش میں 26نومبر کو آئینی سیاسی جمہوری پرامن احتجاج پر گولیاں چلائی گئی جس میں درجنوں کا رکنوں کو شہید وزخمی کیا گیا۔ میں آج اپنی پارٹی کی جانب سے 26نومبر 2024کے شہدا ء کو دل کی اتاہ گہرائیوں سے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور دیگر تمام اکابرین نے اپنی سیاسی بصیرت، دور اندیشی سے معلوم کیا تھا کہ مسلط اور فارم47کے نام نہاد پارلیمنٹ سے ملک کے سب سے اہم متفقہ دستاویز آئین پاکستان کے بگاڑ کا کام لیا جائے گا۔ موجودہ نام نہاد حکومت نے27ویں آئینی ترمیم جس نے آئین کے بنیادی ڈھانچہ (مقننہ، عدلیہ اور انتظامیہ) کے بنیادوں کو تبدیل کرنے کا غیر آئینی، غیر قانونی عمل کیا ہے اور اس طرح سپریم کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 184اور ہائی کورٹ کے 149تفویض شدہ چھین کر فیڈرل آئینی کورٹ اور صوبائی آئینی کورٹ کے حوالے کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا بنیادی ڈھانچہ عام پارلیمنٹ سے بھی تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔لیکن یہاں نام نہاد مسلط غیر منتخب پارلیمنٹ سے فیڈرل آئینی ڈھانچہ کو تبدیل نہیں کیاگیا۔فیڈرل آئینی ڈھانچہ میں تبدیلی وترمیم کے لیے آئین ساز اسمبلی ضروری ہے۔ آج 27ویں آئینی ترمیم سے ملک کے تمام آئینی ادارے فرد واحد کے ماتحت بنائے گئے ہیں۔ ریاست اور اس کے ادارے ادارتی اختیار سے چلائے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد پارلیمنٹ اور اس کے تشکیل کردہ حکومت کے رہنے کا کوئی آئینی، قانونی، سیاسی اور جمہوری جواز نہیں۔ 27ویں آئینی ترمیم اور مسلط نام نہاد حکومت کاخاتمہ ضروری ہے۔ عمران خان سمیت تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی اور ملک میں نئے سرے سے صاف شفاف انتخابات منعقد کرانا لازمی امر بن گیا ہے اور ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ نئے انتخابات اور سیاسی کارکنوں کی رہائی سے ممکن ہے۔ سنجیدہ سیاسی جمہوری وطن دوست کارکنوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں کہ وہ ملک کے اپوزیشن جماعتوں کی جمہوری جدوجہد تحریک تحفظ آئین پاکستان کا بھرپور ساتھ دیں۔
