ٹپ نہیں دینی تو نہ دو لیکن۔۔ فوڈ ڈلیوری رائیڈرز کا معاملہ ! فضا علی نے ندا یاسر کو انسانیت یاد دلا دی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)“جو لوگ ہمارے لیے رات کی تاریکی میں، سردی گرمی میں، آئے دن کے خطرات کے باوجود کھانا پہنچاتے ہیں… ہم مہنگا آرڈر تو کر دیتے ہیں، مگر انہیں عزت دینا بھول جاتے ہیں۔ یہ بھی انسان ہیں، کسی کے بیٹے، کسی کے باپ، اور اکثر گھر کے واحد کفیل۔ ان کے ساتھ احترام سے پیش آنا ہماری ذمہ داری ہے۔ ”
فضا علی کا یہ بھرپور اور دوٹوک جواب اُس وقت سامنے آیا جب ندا یاسر نے اپنے حالیہ شو میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈرز کے بارے میں ایسے تبصرے کیے جنہیں سوشل میڈیا پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ندا نے کہا تھا کہ ڈیلیوری بوائز بار بار لوگوں کو مشکل میں ڈالتے ہیں، ان کے پاس کبھی ریزگاری نہیں ہوتی، اور وہ اضافی پیسے بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ صارف کو ہمیشہ پورا پیسہ ساتھ رکھنا چاہیے اور اگر کچھ واپس دینا ہو تو وہ رائیڈر کی ذمہ داری ہے۔
اس بیان نے سوشل میڈیا پر آگ کی طرح بحث چھیڑ دی۔ ایسے وقت میں جب ڈیلیوری رائیڈرز گرمی، بارش، ٹریفک اور سڑکوں کے خطرات میں روزانہ کام کرتے ہیں، ان پر الزام تراشی نے عوام کو ناراض کر دیا۔ فضا علی وہ پہلی شوبز شخصیت تھیں جنہوں نے کھل کر رائیڈرز کی حمایت میں آواز اٹھائی۔ ان کے بیان نے نہ صرف بحث کا رخ بدل دیا بلکہ لوگوں کو وہ حقیقت بھی یاد دلائی جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے۔
فضا کے مطابق، یہ لوگ ہمارے آرڈر وقت پر پہنچانے کے لیے جانے کن مشکلات سے گزرتے ہیں۔ ہم کھانا لینے کے بعد شاید ان سے ایک شکریہ بھی نہ کہیں، مگر وہ گھر گھر جا کر اپنا فرض نبھاتے ہیں۔ وہ رزق کے لیے روزانہ ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں جو عام شہری سوچ بھی نہیں سکتے۔ فضا نے اسی احساس کی کمی کو ندا کے بیان کی سب سے بڑی خامی قرار دیا۔
سوشل میڈیا پر عوام فضا علی کے مؤقف کے ساتھ کھڑی دکھائی دی۔ سینکڑوں لوگوں نے ان کی حمایت میں تبصرے کیے کہ کسی نے تو کھل کر بات کی۔ ایک صارف نے لکھا، “آخر کار سچ بولنے والا مل گیا۔” دوسرے نے کہا، “انہیں ٹِپ دینا فرض تو نہیں، مگر انسانیت کا تقاضا ضرور ہے۔” کئی لوگوں نے ندا یاسر کے الفاظ کو غیر حساس اور غیر مناسب قرار دیا اور فضا کو خراجِ تحسین پیش کیا کہ انہوں نے غلط بات پر خاموش رہنے کے بجائے اپنی رائے صاف انداز میں بیان کی۔
یہ تنازع اب ایک بڑے سوال میں بدل چکا ہے ہم آسانی تو چاہتے ہیں مگر آسانی دینے والے انسانوں کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟ اور کیا ہمیں اپنی روزمرہ شکایات کو کہنے سے پہلے اُن لوگوں کی مشکلات کو نہیں سمجھنا چاہیے جو ہمارے لیے روز محنت کرتے ہیں؟
