بلوچستان کے ڈیجیٹل بلیک میلرز

تحریر : ظفر اللہ اچکزئی
قدرت نے بلوچستان کی سرزمین کو جہاں معدنی دولت سے مالا مال کیا ہے، وہیں اس دھرتی نے عظیم سیاسی، ادبی اور علمی شخصیات کو بھی جنم دیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ بلوچستان کا حوالہ صرف پہاڑ اور صحرا نہیں بلکہ یہاں کا ادب اور شائستگی ہوا کرتی تھی۔ خان عبدالصمد خان اچکزئی کے پہلے میگزین سے لے کر بعد میں جاری ہونے والے اخبارات تک، صحافت میں ایک وقار اور سنجیدگی کا عنصر نمایاں تھا۔ بلوچستان کی صحافت میں ’شائستہ زبانی‘ ایک روایت کی حیثیت رکھتی تھی، جہاں اختلاف بھی دلیل اور تہذیب کے دائرے میں رہ کر کیا جاتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اقدار کا یہ جنازہ نکلتا گیا، پہلے کراچی طرز کے شام کے اخبارات نے خبر کے تقدس اور اہمیت کو دھندلا کیا، پھر الیکٹرانک میڈیا کی ’بریکنگ نیوز‘ کی بے ہنگم دوڑ نے سنسنی پھیلائی اور اب رہی سہی کسر سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا کی یلغار نے پوری کر دی ہے۔
بلوچستان کی تاریخ اور اس کے روشن پہلوؤں پر پھر کبھی بات ہوگی، آج ہمارا موضوعِ بحث بلوچستان میں سوشل میڈیا پر نام نہاد صحافیوں اور ڈیجیٹل بلیک میلرز کا وہ گروہ ہے جس نے صحافت کو کاروبار بنا لیا ہے۔ آج اگر آپ سوشل میڈیا، فیس بک یا ٹک ٹاک کھول کر دیکھیں تو بلوچستان کا جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے، اسے دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ خدانخواستہ یہاں انسان نہیں بلکہ کوئی اور مخلوق بستی ہے۔ اسکرین پر چیختے چنگھاڑتے یہ لوگ یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہاں نہ کوئی ہسپتال ہے، نہ سڑک، نہ پانی اور نہ ہی نظامِ زندگی۔ بلاشبہ بلوچستان مسائل کا گڑھ ہے اور یہاں محرومیاں موجود ہیں، لیکن جس انداز میں ہر چیز میں کیڑے نکال کر منفی پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، وہ اصلاح کے لیے نہیں بلکہ مخصوص مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔ اگر ان کی بات مان لی جائے تو لگتا ہے کہ صوبے میں کوئی ایک اینٹ بھی درست نہیں لگی۔ کاش ان ہاتھ میں موبائل تھامے افراد میں تھوڑی سی بھی تعلیمی قابلیت یا صحافتی شعور ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ خبر اور الزام میں کیا فرق ہے۔ کسی غلط کام کی نشاندہی کرنا صحافت ہے، لیکن ہر چیز کو سیاہ دکھانا اور مثبت پہلوؤں کو نظر انداز کرنا بدنیتی ہے۔ اگر تنقید برائے اصلاح ہو اور مثبت انداز میں مسائل اجاگر کیے جائیں تو شاید بہتری کی کوئی صورت نکل سکے، لیکن یہاں مقصد بہتری نہیں بلکہ ہیجان برپا کرنا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ بلوچستان میں ڈیجیٹل میڈیا کے نام پر صحافی کم، مگر غیر تربیت یافتہ، کم علم اور بلیک میلرز کا ایک ٹولہ مسلط ہو چکا ہے۔ ان لوگوں کی حرکات و سکنات دیکھ کر کبھی کبھی تو سنجیدہ اور حقیقی صحافیوں کو اپنا تعارف کروانے یا کسی محفل میں خود کو صحافی کہنے میں بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ بس ایک موبائل ہاتھ میں تھاما، کیمرہ آن کیا اور جو منہ میں آیا بولتے چلے گئے۔ تحقیق، تصدیق اور توازن جیسے صحافتی اصولوں سے عاری یہ گفتگو تب تک جاری رہتی ہے جب تک مبینہ ’کرپٹ‘ عناصر ان کی مٹھی گرم نہیں کرتے یا انہیں بلیک میل نہیں کر لیا جاتا۔ سوشل میڈیا کے یہ خود ساختہ ارسطو اپنے ان ’خاص آقاؤں‘ یا اداروں کے خلاف تو زبان سی لیتے ہیں جو انہیں پالتے ہیں، مگر باقی دنیا کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ بھائی جو الزامات آپ لگا رہے ہیں، کیا اس کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی آپ کے پاس موجود ہے یا محض ہوائی فائرنگ ہی کرنی ہے؟ یہ رویہ نہ صرف صحافت کی ساکھ کو مجروح کر رہا ہے بلکہ معاشرے میں فیک نیوز (جعلی خبروں) کے کلچر کو فروغ دے رہا ہے جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔
حیرت اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ بڑے بڑے قومی ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز سے وابستہ کیمرہ مین اور تیکنیکی عملہ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہا ہے۔ یہ افراد انہی چینلز کے وسائل اور ویڈیوز، جنہیں ریکارڈ کرنے کی انہیں تنخواہ ملتی ہے، اپنے ذاتی سوشل میڈیا پیجز پر اپلوڈ کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چینلز کی انتظامیہ اس پر پراسرار طور پر خاموش ہے، جبکہ ماضی میں عالمی میڈیا سے منسلک رہے کچھ نامور لوگ بھی اب کیمرہ مینوں کے ساتھ مل کر لوگوں کو بلیک میل کرنے کے دھندے میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہیں پریس کلب کے باہر ہونے والا چھوٹا سا احتجاج تو نظر آتا ہے کیونکہ وہاں کیمرہ لے کر پہنچنا اور پھر اسے بلیک میلنگ کے ٹول کے طور پر استعمال کرنا آسان ہے، لیکن اسی دن ہونے والی کوئی مثبت سرگرمی یا علمی تقریب ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتی۔ کوئی کسی محکمے کے بجٹ اور اخراجات پر تحقیقاتی رپورٹنگ کا دعویٰ کرتا ہے لیکن پسِ پردہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ موصوف خود اسی محکمے کے ڈی جی کے پاس سفارش لے کر گئے تھے، اور جب ’لفافہ‘ یا مراعات نہ ملیں تو اسی محکمے کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا۔
فیک نیوز اور من گھڑت تجزیوں کا یہ عالم ہے کہ کوئی شخص صبح گھر سے لڑ کر نکلتا ہے تو اپنا غصہ سوشل میڈیا پر نکالتا ہے۔ بغیر کسی تحقیق کے لکھ دیا جاتا ہے کہ حکمران جماعت میں پھوٹ پڑ گئی ہے اور وزیراعلیٰ کی چھٹی ہونے والی ہے۔ تھوڑا آگے چل کر ایک اور شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ فلاں افسر نے وزیراعلیٰ کو کروڑوں کا تحفہ دیا ہے، حالانکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا۔ اگر ان کا پس منظر میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی سینئر تجزیہ کار نہیں بلکہ کسی چینل کا کیمرہ مین یا غیر متعلقہ شخص ہے جسے خبر کی الف ب کا بھی علم نہیں۔ یہاں مقصد کسی حکومت یا افسر کی حمایت کرنا ہرگز نہیں، بلکہ اس گرتے ہوئے معیار پر نوحہ کناں ہونا ہے جس نے صحافت کو مذاق بنا دیا ہے۔ مجھے اپنے سینئرز، پریس کلب کے عہدیداران اور ورکرز یونینز پر شدید حیرت ہے کہ وہ اس سنگین صورتحال پر خاموش کیوں ہیں؟ یاد رکھیں! اگر آج ان کالی بھیڑوں کا محاسبہ نہ کیا گیا اور حکومت یا کسی متاثرہ شخص نے ذاتی حیثیت میں قانونی ایکشن لیا، تو کل یہی لوگ ’آزادی صحافت خطرے میں ہے‘ کا نعرہ لگا کر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حقیقی صحافیوں کو بھی ان کا ساتھ دینے پر مجبور ہونا پڑے گا
