کوئٹہ: شدید سردی میں گیس اور بجلی غائب، نظام زندگی مفلوج، گھروں میں چولہے ٹھنڈے، بچے اور بزرگ بیمار، لکڑی جلانے پر مجبور

کوئٹہ ( ڈیلی قدرت )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ شدید سردی کی لپیٹ میں ہے جبکہ شہر کے متعدد علاقوں میں گیس اور بجلی کی غیراعلانیہ بندش نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے‘ درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر جانے کے باوجود گیس پریشر نہ ہونے اور بجلی کے بار بار تعطل نے شہریوں کی روزمرّہ زندگی مفلوج کرکے رکھ دی ہے شہر کے مختلف علاقوں جناح ٹاؤن، سریاب روڈ، نواں کلی‘شالدرہ‘کلی درانی‘ پشتون آباد‘لہڑی گیٹ‘ کواری روڈ، خروٹ آباد اور سٹیلائٹ ٹاؤن سمیت دیگر علاقوں میں میں گیس صبح سویرے اور رات کے اوقات میں تقریباً غائب رہتی ہے، جبکہ جہاں دستیاب ہے وہاں پریشر انتہائی کم ہونے کے سبب گھروں میں چولہے جلانا بھی ناممکن ہو چکا ہے‘ دوسری جانب بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے سردی کی شدت مزید بڑھا دی ہے‘شدید سردی میں گھر ٹھٹھرتے بچوں اور بزرگوں کے لیے گرم پانی، ہیٹر اور کھانا تیار کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ اسپتالوں میں سردی سے متعلق بیماریوں، نزلہ، زکام اور نمونیا کے مریضوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ صبح اسکول بھیجنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ نہ گھر گرم ہوتے ہیں اور نہ بچے خود کو سردی سے محفوظ رکھ پاتے ہیں۔گھریلو خواتین نے شکایت کی ہے کہ کم گیس پریشر کے باعث کھانا پکانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، جس سے گھریلو نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں نے مجبوراً لکڑی، کوئلہ اور مہنگے ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنا شروع کر دیے ہیں، جس سے اخراجات میں بے حد اضافہ ہو گیا ہے۔شہر کی تاجر برادری بھی بجلی کی بندش سے شدید متاثر ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے روزگار خطرے میں پڑ گیا ہے۔ سرد موسم میں گیس و بجلی نہ ہونے کے باعث چائے ہوٹل، بیکریاں، نان بائی اور چھوٹے کارخانے اپنا کاروبار جاری رکھنے سے قاصر ہیں۔شہریوں نے سوئی گیس اور بجلی فراہم کرنے والے اداروں کی ناقص کارکردگی پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرد موسم میں عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ گیس پریشر بحال کیا جائے، بجلی کی بندش ختم کی جائے اور غفلت برتنے والے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔عوام کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو شدید موسم میں مشکلات ناقابلِ برداشت ہو جائیں گی۔ شہر بھر میں بڑھتی سردی اور سہولیات کی کمی کے باعث عوام حکومت اور متعلقہ اداروں کی فوری مداخلت اور ٹھوس حکمتِ عملی کے منتظر ہیں۔
