بلوچستان میں خواتین کے حقوق: مطالبات سے سفارشات ،ایک مثبت پیش رفت

تحریر: مطیع اللہ مطیع
دنیا بھر کی طرح پاکستان اور بلوچستان میں بھی خواتین و بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کی عالمی 16 روزہ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ ہر سال 25 نومبر سے 10 دسمبر تک منائی جانے والی یہ مہم محض رسومات کا حصہ نہیں بلکہ ایک ایسا عالمی پیغام ہے جو معاشرے میں شعور، آگاہی، ذمہ داری اور مساوات کو فروغ دینے کی کوششوں کی علامت بن چکا ہے۔ اس سال کا موضوع “ڈیجیٹل تشدد کا خاتمہ” ہے ایک ایسا مسئلہ جو جدید ٹیکنالوجی کے دور میں تیزی سے بڑھ رہا ہے اور خواتین و لڑکیوں کی آن لائن موجودگی کو شدید خطرات سے دوچار کر رہا ہے۔
مطالبات نہیں، سفارشات بلوچستان کی سول سوسائٹی کا بدلتا ہوا رویہ
گزشتہ برسوں میں سول سوسائٹی عموما حکومت سے مطالبات کیا کرتی تھی، مگر اس سال ایک خوشگوار تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سول سوسائٹی نے مطالبات کی بجائے ٹھوس، قابلِ عمل اور پالیسی سطح کی سفارشات پیش کیں۔ یہ ایک واضح اشارہ ہے کہ بلوچستان کی سماجی تنظیمیں نہ صرف مسائل کی نشاندہی کر رہی ہیں بلکہ ان کے حل کے راستے بھی دکھا رہی ہیں۔
اسی سلسلے میں عورت فانڈیشن، ایواجی الائنس اور یو این وومن کی جانب سے کوئٹہ میں ایک اہم پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد صنفی مساوات کو فروغ دینا، صنفی بنیاد پر تشدد کے مسائل کو اجاگر کرنا اور خواتین و لڑکیوں کے لیے حساس اور مثر انصاف کی فراہمی کو مضبوط بنانا تھا۔
ڈیجیٹل دور کی نئی چیلنجز تشدد کی شکل بدل گئی
پروگرام میں شرکت کرنے والے ماہرین جن میں یو این وومن بلوچستان کی سربراہ عائشہ ودود، ایڈیشنل آئی جی پولیس جینڈر اسرار احمدعمرانی، عصمت اللہ خان، صابرہ اسلام، فوزیہ شاہین، یاسمین مغل اور اشفاق مینگل شامل تھے نے اس اہم مسئلے پر روشنی ڈالی کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر خواتین کے خلاف ہراسانی اور بلیک میلنگ میں خطرناک اضافہ ہو چکا ہے۔جعلی پروفائلز، نجی تصاویر کا غلط استعمال، آن لائن ٹریکنگ، میسجنگ ایپس کے ذریعے ہراسانییہ سب اب روزمرہ حقیقت بن چکے ہیں۔ ان واقعات کے ذہنی اثرات دیرپا ہوتے ہیں، جبکہ متاثرہ خواتین کی تعلیم، روزگار اور شخصی وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ موثر عوامی تربیت، آن لائن پرائیویسی، محفوظ پاس ورڈز، مشکوک سرگرمیوں کی فوری رپورٹنگ اور مضبوط قانونی سسٹم کے بغیر ڈیجیٹل تشدد کو روکنا ممکن نہیں۔
سول سوسائٹی کی ٹھوس سفارشات پالیسی سطح پر تبدیلی کی ضرورت
ایواجی الائنس اور عورت فائونڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر علاالدین خلجی نے حکومت بلوچستان کو سفارشات پیش کیں
کم عمری کی شادی کے خلاف منظور شدہ بل کے رولز آف بزنس جلد مکمل کیے جائیں۔
تیزاب گردی کی متاثرہ خواتین کے لیے بحالی و سماجی مدد سے متعلق بل اسمبلی میں لایا جائے۔
مقامِ کار پر ہراسانی کے خلاف صوبائی محتسب کی فوری تقرری کی جائے۔
سرکاری محکموں میں صنفی حساسیت کی تربیت اور کمیٹیوں کا قیام یقینی بنایا جائے۔
خواتین کو حکومتی اداروں میں ہر سطح پر برابری کی بنیاد پر نمائندگی دی جائے۔
معذور افراد کے لیے دفاتر و اداروں میں رسائی بہتر بنائی جائے۔
لوکل گورنمنٹ کے انتخابات میں خواتین کو جنرل نشستوں پر بھی ٹکٹ دینے کی روایت اپنائی جائے۔
کوئٹہ کے مئیر یا ڈپٹی مئیر کے لیے خاتون امیدوار کی نامزدگی پر غور کیا جائے۔
عدالتوں میں خواتین سے متعلق کیسز کی تیز ترین سماعت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
بلوچستان میں ڈویژنل سطح پر دارالامان قائم کیے جائیں۔
خواتین کے آن لائن تحفظ کے لیے سائبر قوانین میں صنفی حساس ترامیم کی جائیں۔
یہ سفارشات صرف کاغذی باتیں نہیںیہ وہ عملی اقدامات ہیں جو بلوچستان میں خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور بااختیار معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
خواتین کے حقوق اور قبائلی معاشرت ایک حقیقت
بلوچستان میں قبائلی رسم و رواج صدیوں سے معاشرتی ڈھانچے کا حصہ رہے ہیں۔ لیکن انہی روایات کے سائے میں بعض اوقات خواتین کو وراثتی حق سے محروم کیا جاتا ہے، انہیں کم عمری کی شادی کا سامنا ہوتا ہے، یا انہیں جائیداد کے طور پر استعمال کیے جانے جیسے غیر انسانی رویے دیکھے جاتے ہیں۔ خواتین کی سیاسی، تعلیمی، معاشی اور انتظامی مضبوطی ہی انہیں حقیقی معنوں میں بااختیار بن سکتی ہے۔
حکومت بلوچستان کا موقف
پارلیمانی سیکرٹری برائے اقلیتی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سنجے کمار پنجوانی نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایک باوقار روایات رکھنے والا صوبہ ہے جہاں خواتین کو عزت دی جاتی ہے۔ حکومت خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی، جبکہ سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر صنفی انصاف کے فروغ کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔
شرکاء کہتی ہے کہ16 روزہ عالمی مہم صرف ایک سرگرمی نہیںیہ خواتین کے حقوق کی جدوجہد کا تسلسل ہے۔ لیکن اس سال بلوچستان میں جو تبدیلی آئی ہے مطالبات کے بجائے سفارشاتیہ ایک دانشمندانہ، بالغ اور آگے بڑھتا ہوا رویہ ہے۔ اس سے نہ صرف پالیسی سطح پر مثبت تبدیلیوں کی امید پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ سول سوسائٹی، حکومتی ادارے، میڈیا اور نوجوان مل کر بلوچستان میں خواتین کے تحفظ، بااختیاری اور انصاف کے نئے دور کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔اگر یہی سلسلہ جاری رہا، تو آنے والے برسوں میں بلوچستان ایک ایسا صوبہ بن سکتا ہے جہاں خواتین کے حقوق صرف بیانیوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی محفوظ اور محفوظ تر ہوں گے۔
