پنجگور: بینک ڈکیتی انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ، قاتلوں کو 24 گھنٹے میں گرفتار نہ کیا گیا تو عوامی ردعمل آئے گا: شہری ایکشن کمیٹی


پنجگور ( ڈیلی قدرت )آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی پنجگور کے ترجمان نے ضلع میں بڑھتی ہوئی ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور چوری ڈکیتی کی وارداتوں پر سخت تشویش اور شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ دو روز قبل سی ٹی ڈی اہلکار کے اغوا اور بعد ازاں شہادت جبکہ آج پنجگور کی تاریخ میں پہلی بار دن دہاڑے تین بینکوں میں ڈکیتی، ایک پولیس اہلکار اور ایک راہگیر کی شہادت انتہائی المناک اور سنگین واقعہ ہے۔ترجمان کے مطابق مسلح جتھے نہ صرف نوجوانوں کو اغوا کر کے شہید کر رہے ہیں بلکہ بھری بازار میں بھاری اسلحے کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے بینک لوٹ رہے ہیں، مگر انتظامیہ انہیں روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ چند روز قبل عوامی جرگے میں تمام ذمہ داروں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ نہ مسلح جتھے نظر آئیں گے اور نہ ہی چوری ڈکیتی ہوگی، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج کا واقعہ انتظامیہ کے منہ پر زوردار طمانچہ اور ایک کھلا چیلنج ہے کہ قاتلوں اور ڈاکوں کو 24 گھنٹوں کے اندر گرفتار کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، بصورت دیگر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ترجمان نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت حکومت اور انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر ادارے محض وقت گزاری کر رہے ہیں۔ترجمان نے عوام سے متحد اور متحرک رہنے، منفی قوتوں کے مقابلے کے لیے تیار رہنے اور اپنی حفاظت خود کرنے پر زور دیا، کیونکہ موجودہ حالات میں ذمہ دار ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجگور میں ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری موجود ہونے کے باوجود اس نوعیت کی وارداتیں پولیس اور دیگر اداروں کی غفلت اور غیر ذمہ داری کا واضح ثبوت ہیں۔آخر میں ترجمان نے مطالبہ کیا کہ قاتلوں، چوروں اور مسلح جتھوں کے خلاف فوری اور بے رحمانہ کریک ڈان کیا جائے، بصورت دیگر عوام اپنی حفاظت کے لیے خود فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گے۔ انہوں نے تمام جماعتوں کی جانب سے شہید پولیس اہلکار اور بے گناہ شہری کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔

WhatsApp
Get Alert