حکومت اور جے یو آئی کا گٹھ جوڑ، کوئٹہ الیکشن ملتوی کرانا عذر گناہ بدتر از گناہ ہے: امان اللہ کنرانی

سردی محض بہانہ ہے، سیاسی جماعتیں نچلی سطح پر اختیارات منتقل نہیں کرنا چاہتیں: سابق صدر سپریم کورٹ بار


کوئٹہ( ڈیلی قدرت کوئٹہ)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبائی حکومت و جمعیت علماء اسلام کی باہمی گٹھ جوڑ سے کوئٹہ میٹروپولیٹن شہر و ضلع میں انتخابات ملتوی کرانا عْذر گناہ بد تر از گناہ کے مْترادف ہے جو جماعتیں گذشتہ نصف صدی سے گرمی ،سردی و رمضان المبارک سے قطع نظر عام انتخابات میں حصہ لیتی رہی ہیں 1970 کے عام انتخابات شدید سردی کے ان دنوں میں برف باری کے باوجود 7 دسمبر کو منعقد ہوئے جبکہ 2018 کے عام انتخابات کی مہم رمضان المبارک میں چلائی گئی اور انتخابات 25 جولائی کے گرم ترین آگ برساتی دن کو ہوئے اصل میں بات موسم و سرد و گرم آبادی و حلقہ بندیوں و انتخابی فہرستوں کا نہیں ہے بلکہ نیتوں و عوامی تائید کا ہے جو سیاسی پارٹیاں بلدیاتی انتخاب نہیں چاہتیں وہ دراصل اپنے اختیارات کو نچلی سطح تک منتقلی میں مخلص نہیں ہیں وہ ارتکاز اختیارات کے حامل ذہنیت رکھنے والی جماعتیں ہیں حکومت و سیاسی جماعتوں کی بلدیاتی انتخابات سے بھاگنے کے حیلے بھانے انکی صوبائی و قومی میڈیٹ پر بھی سوالیہ نشان و تحفظات و شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے جو سیاسی پارٹیاں سیاست و جمہوریت میں امریکہ و برطانیہ کو قبلہ و کعبہ سمجھتی ہیں مگر نہ وہاں کی جمہوریت کو اپناتی ہیں نہ وہاں کی طرز حکمرانی سیکھتے ہیں تمام ترقی یافتہ ممالک میں انتظامی و مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو حاصل ہیں وفاقی و صوباء حکومتیں انکی دست نگر ہیں بدقسمتی سے ھمارا کوء مطمح نظر نہیں ہے ایک بے ہنگم ملک اور ریوڑ کی طرح ھانکے جاننے والی قوم ہیں عدالتی و انتظامی و پارلیمانی نظام مقید و مفلوج ہے آئین ایک کاغذ کا پْرزہ بن کر رہ گیا ہے بہتر ہے آئین سے آرٹیکل 140-A نکال دیا جائے جس کے تحت مقامی حکومتوں کو انتظامی و مالی اختیارات منتقل کرنے کی ضمانت دی گئی ہے

WhatsApp
Get Alert