کوئٹہ میں گیسٹرو انسٹی ٹیوٹ کو ٹراما سینٹر بنانا غیر قانونی اور غیر سائنسی ہے، ہسپتالوں میں سرنج اور کینولا نہیں، حکام تعمیرات اور کمیشن میں مصروف ہیں : پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کوئٹہ نے محکمہ صحت کی جانب سے کوئٹہ میں امراضِ معدہ، جگر و آنت (گیسٹروانٹرولوجی) کی نئی تعمیر شدہ عمارت کو ٹراما سینٹر میں تبدیل کرنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر سائنسی اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ پی ایم اے ترجمان کے مطابق یہ عمارت گیسٹروانٹرولوجی کے لیے منظور شدہ تھی، اسے توڑ پھوڑ کر ٹراما سینٹر بنانا طویل مدتی منصوبہ بندی کا قتل ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے اصولوں کے مطابق ٹراما سینٹر ہمیشہ ٹرشری کیئر ہسپتالوں جیسے بی ایم سی یا سول ہسپتال کے اندر ہونے چاہئیں، ہسپتالوں سے دور قائم ٹراما سینٹر خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
بیان میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پالیسی سازی میں پی ایم اے اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ صوبے میں صحت کے اشاریے انتہائی تشویشناک ہیں، ہسپتالوں میں مریضوں کو سرنج، کینولا اور ایمرجنسی ادویات تک میسر نہیں، جبکہ حکام کی توجہ صرف عمارتوں کی تعمیر و مرمت پر ہے تاکہ ذاتی مفادات حاصل کیے جا سکیں۔ محکمہ صحت میں 80 فیصد سے زائد عہدے اضافی چارج پر چلائے جا رہے ہیں جو کہ گڈ گورننس کے دعوؤں کی نفی ہے۔ پی ایم اے نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف جسٹس اور چیف سیکرٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ میرٹ کے قتل کا نوٹس لیا جائے، بصورت دیگر ڈاکٹر تنظیمیں سخت احتجاجی راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گی۔
