لاہور سے کچھ سیکھ کر نہیں، بلکہ پنجاب حکومت کو تہذیب اور اخلاقیات سکھا کر جاؤں گا: سہیل آفریدی


لاہور (ڈیلی قدرت نیوز): وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی اور پنجاب حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور واضح کیا کہ وہ لاہور سے کچھ سیکھ کر نہیں بلکہ یہاں کے حکمرانوں کو تہذیب سکھا کر جائیں گے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اتوار تک یہیں قیام کروں گا لیکن بدقسمتی سے جب صبح نکلا تو چکری انٹرچینج پر پنجاب پولیس نے راستہ روکا، بدتمیزی کی اور ہمارے کارکنان و لیڈرشپ کو ہراساں کرکے جیلوں میں ڈالا گیا جو کہ فسطائیت ہے۔

موجودہ حکومت کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفاق اور پنجاب پر قابض ٹولہ 8 فروری کو صرف 17 سیٹیں لے کر آیا تھا، اور جو شخص عوام کیلئے اپنے کپڑے بیچنے کے دعوے کرتا تھا آج وہ پی آئی اے بیچ کر بیٹھا ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی نے معیشت کی تباہی کا نقشہ کھینچتے ہوئے کہا کہ 2022 میں 6 فیصد پر موجود جی ڈی پی آج 2 فیصد پر ہے، انڈسٹریز ملک چھوڑ رہی ہیں اور نوجوان اس قدر مایوس ہیں کہ اگر آج موقع ملے تو سفارتخانوں کے باہر دو دو کروڑ کی قطاریں لگ جائیں گی۔ گفتگو کے آخر میں صحافی کے سوال پر کہ کیا وہ مریم نواز کے پنجاب سے کچھ سیکھ کر جا رہے ہیں، علی امین گنڈا پور نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک وزیر اعلیٰ کے ساتھ جو بداخلاقی ہو رہی ہے وہ نہیں لے کر جاؤں گا البتہ اتنا ضرور چھوڑ کر جاؤں گا کہ یہ حکمران “تہذیب اور اخلاقیات سیکھ سکیں”۔

WhatsApp
Get Alert