مسلم باغ: کیسکو کے ناروا رویے اور پیٹرول پمپس کی بندش کیخلاف احتجاجی ریلی “چیک پوسٹوں پر شہریوں کی تذلیل نامنظور ہے، عوام دشمن اقدامات کیخلاف ڈٹ کر مقابلہ کریں گے: پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی

مسلم باغ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اور صوبائی سینئر نائب صدر چیئرمین اللہ نور خان، پارٹی کے صوبائی سیکریٹری مالیات اور میونسپل کمیٹی قلعہ سیف اللہ کے چیئرمین سعید اکبر خان کاکڑ، مسلم باغ کے علاقائی سیکریٹری ملک جمعہ خان یونس خیل اور زمان خان کاکڑ اور دیگر پارٹی رہنماؤں کی قیادت میں مسلم باغ شہر اور بازار میں پارٹی کے زیرِ اہتمام کیسکو (QESCO) کے ناروا اور عوام دشمن اقدامات، چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کی تذلیل، اور پیٹرول پمپوں کی غیر قانونی بندش کے خلاف ایک عظیم الشان، منظم اور بھرپور احتجاجی ریلی اور جلسۂ عام منعقد کیا گیا۔ احتجاجی ریلی میں پارٹی کارکنان، شہریوں، دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا اور اس دوران “کیسکو کے عوام دشمن اقدامات مردہ باد، مردہ باد، پیٹرول کے کاروبار کی بندش نامنظور، نامنظور، چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل نامنظور، نامنظور،بجلی کے فیڈرز بحال کرو، بحال کرو جیسے فلک شگاف نعرے لگائے، جس سے پورا شہر گونج اٹھا۔ بعد ازاں احتجاجی جلسۂ عام مرکزی سیکریٹری چیئرمین اللہ نور خان کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس سے مختلف مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیسکو نے دانستہ طور پر بجلی کے پورے نظام کو تباہ کر دیا ہے۔ مقررین کے مطابق 150 سے زائد بجلی کے فیڈرز کا مکمل ساز و سامان، جو کہ عوامی ملکیت تھا، غیر قانونی طریقے سے منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح بجلی کے کھمبوں سے تاریں اتار لی گئی ہیں، حتیٰ کہ چشمہ سے آنے والی نیشنل ٹرانسمیشن لائن کے تار بھی کیسکو کی سرپرستی میں چوری کیے جا رہے ہیں، جو انتہائی تشویشناک اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہ بجلی کے فیڈرز، ٹرانسفارمرز اور دیگر تنصیبات کیسکو کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ یہ ماضی میں عوامی نمائندوں نے صوبائی خزانے اور عوامی فنڈز سے نصب کروائے تھے، جو سراسر عوام کی ملکیت ہیں۔ ان عوامی وسائل کو اس طرح تباہ کرنا اور پورا انفراسٹرکچر اکھاڑ کر لے جانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خبردار کیا کہ اگر کیسکو نے فوری طور پر بجلی کے فیڈرز بحال نہ کیے اور بجلی کے پولز (کھمبوں) پر تاریں دوبارہ نہ لگائیں تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اپنے عوام کی تائید اور حمایت سے کیسکو کے اعلیٰ افسران کے دفاتر کے سامنے احتجاجی دھرنے دینے پر مجبور ہوگی۔ مقررین نے مزید کہا کہ جنوبی پشتونخوا کی اہم شاہراہوں پر غیر ضروری چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں، جہاں چیکنگ کے نام پر عوام کی نہ صرف عزتِ نفس مجروح کی جا رہی ہے بلکہ خواتین کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص چمن سے کوئٹہ تک قومی شاہراہ مکمل طور پر راہزنوں، مسلح جتھوں اور سماج دشمن عناصر کے رحم و کرم پر ہے، جس کے باعث عام شہریوں کا سفر کرنا انتہائی دشوار اور خطرناک بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا روزگار پہلے ہی تباہ حالی کا شکار ہے، اور اب ضلعی انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے پیٹرول پمپوں کی بندش کے باعث ہزاروں خاندان بے روزگار ہو چکے ہیں اور دو وقت کی روٹی کے لیے محتاج بن گئے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ PCM کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو عوامی وسائل پر ڈاکہ قرار دیتے ہوئے تمام غیر قانونی الاٹمنٹس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے ایف سی کی غیر ضروری اور عوام دشمن چیک پوسٹوں، ایرانی پیٹرول پمپوں کی بندش، مسلم باغ شہر میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور عدم تحفظ کی صورتحال، اور نیشنل ہائی وے N-50 پر ڈی بلوچ کنسٹرکشن کمپنی کی جانب سے ترقیاتی کاموں میں غیر معمولی سست روی پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ آخر میں مقررین نے واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان تمام عوامی مسائل کا فوری، سنجیدہ اور عملی حل نہ نکالا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اس احتجاجی تحریک کو مزید منظم، مضبوط اور وسیع کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔ اختتام پر احتجاجی ریلی اور جلسۂ عام مکمل طور پر پُرامن انداز میں اختتام پذیر ہوا۔
