قلعہ سیف اللہ: بجلی بند، ایرانی تیل نایاب، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی کال پر عوام سڑکوں پر نکل آئے، بڑے مظاہرے سے رہنمائوں کا خطاب

قلعہ سیف اللہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی جاری احتجاجی تحریک کے سلسلے میں پشتونخوا نیپ ضلع قلعہ سیف اللہ کے زیرِ اہتمام بجلی کی ناروا طویل لوڈشیڈنگ، امن و امان کی ابتر صورتحال، منشیات فروشی کے بڑھتے ہوئے رجحان، چیک پوسٹوں پر عوام کی تذلیل، ایرانی پیٹرول پمپوں کی بندش، زرعی ٹیکس کے نفاذ اور ٹول پلازہ کی غیر قانونی تنصیب کے خلاف ایک عظیم الشان، منظم اور بھرپور احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی میں پارٹی کارکنان، کسانوں، تاجروں اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے شہر کی مختلف شاہراہوں پر مارچ کیا، اپنے مطالبات کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور بعد ازاں پشتونستان چوک پر ایک بڑے احتجاجی جلسۂ عام کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان نے کی۔

جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات محمد عیسیٰ روشان، مرکزی سیکریٹری چیئرمین اللہ نور خان، صوبائی سیکریٹری مالیات اور میونسپل کمیٹی قلعہ سیف اللہ کے چیئرمین سعید اکبر خان کاکڑ، ضلع قلعہ سیف اللہ کے ضلعی سیکریٹری مالیات کمال خان کاکڑ اور پشتونخوا میپ قلعہ سیف اللہ علماء ونگ کے سینئر معاون سیکریٹری مولوی شاہ خالد نے کہا کہ قلعہ سیف اللہ ایک زرعی ضلع ہونے کے باوجود آج شدید تباہی اور بربادی کا شکار ہے۔ مقررین نے کہا کہ کیسکو نے ضلع کے تمام بجلی فیڈرز بند کر کے بجلی کے پورے نظام کو درہم برہم کر دیا ہے، جس کے باعث قلعہ سیف اللہ میں بجلی کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔ اسی طرح گھریلو صارفین کیلئے طویل لوڈشیڈنگ نے روزمرہ کی زندگی اور کاروبار کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ اسی طرح ضلع میں امن و امان کی صورتحال تشویشناک ہے اور منشیات فروشی سرِ عام جاری ہے، جس پر متعلقہ اداروں کی خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے روزگار چھیننے کے مترادف پیٹرول پمپوں کے کاروبار کو بند کر کے تمام ایرانی پیٹرول پمپ سیل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث سینکڑوں خاندان بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف سی کی چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے نام پر عوام کو مسلسل ہراساں اور تنگ کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں کی عزتِ نفس مجروح ہو رہی ہے۔ مقررین نے واضح کیا کہ بجلی کے فیڈرز اور بجلی کے پولز پر نصب تاریں کیسکو کی ملکیت نہیں بلکہ یہ عوامی فنڈز سے نصب کی گئی عوامی ملکیت ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کیسکو نے کسی قانونی جواز کے بغیر یہ تمام ساز و سامان اپنے ساتھ منتقل کر دیا ہے، جو سراسر غیر قانونی اور عوام دشمن عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ چشمہ سے آنے والی نیشنل ٹرانسمیشن لائن، جو صوبے کے عوام کے لیے متبادل بجلی نظام کے طور پر پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی اور بالخصوص ملی شہید عثمان خان کاکڑ کی مسلسل جدوجہد اور کوششوں سے منظور ہوئی تھی، اس کے تار بھی کیسکو کی مبینہ ملی بھگت سے چوری کیے جا رہے ہیں، جس پر فوری اور سخت کارروائی کی ضرورت ہے۔ مقررین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ملی شہید عثمان خان کاکڑ نے سینیٹر کی حیثیت سے جنوبی پشتونخوا کے لیے ایل پی جی گیس پلانٹس کی منظوری حاصل کی تھی، مگر حکومتی عدم دلچسپی اور نااہلی کے باعث ان منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچایا گیا، جس کا نتیجہ آج پورے جنوبی پشتونخوا میں شدید گیس بحران کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ آخر میں مقررین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر ان تمام عوامی مسائل کا فوری، سنجیدہ اور عملی حل نہ نکالا گیا تو پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر اپنی احتجاجی تحریک کو مزید منظم، وسیع اور تیز کرے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور حکام پر عائد ہوگی۔
