سابق پاکستانی کرکٹر نے غیرملکی ٹیم میں شمولیت پرنظریں جما لیں


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان کے بائیں ہاتھ کے اسپنر ظفر گوہر، جنہیں قومی ٹیم میں مختصر مواقع ملے، اب انگلینڈ کی نمائندگی کے لیے اہل ہو گئے ہیں۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی گزشتہ تین برسوں میں اپنی سابقہ قومی ٹیم کی نمائندگی نہ کرے تو وہ بین الاقوامی کرکٹ میں ملک تبدیل کر سکتا ہے، اور ظفر گوہر اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔
ظفر گوہر نے پاکستان کے لیے ایک ٹیسٹ اور ایک ون ڈے میچ کھیلا۔ انہوں نے 2015 میں واحد ون ڈے جبکہ 2021 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنا واحد ٹیسٹ میچ کھیلا۔
ٹیسٹ ڈیبیو کے چند ماہ بعد ہی وہ کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے کے لیے انگلینڈ منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے گلوسٹرشائر کے ساتھ معاہدہ کیا اور بعد ازاں وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔
31 سالہ ظفر گوہر کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے لیے کھیلنے کا خیال ان کے ذہن میں انگلینڈ منتقلی کے بعد سے موجود تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تمام تر توجہ کاؤنٹی کرکٹ میں مسلسل اچھی کارکردگی دکھانے پر مرکوز ہے کیونکہ محنت اور نتائج ہی وہ چیزیں ہیں جو ان کے اختیار میں ہیں۔
انگلینڈ کی اسپن بولنگ کے وسائل پر کافی عرصے سے بحث جاری ہے۔ شعیب بشیر گزشتہ سال ایک نمایاں آپشن کے طور پر سامنے آئے تاہم حالیہ ایشز سیریز میں انہیں موقع نہیں ملا۔
دوسری جانب تجربہ کار اسپنر جیک لیچ، جو اس وقت 34 برس کے ہیں، 2024 کے آخر میں پاکستان کے دورے کے بعد سے کوئی ٹیسٹ نہیں کھیل سکے۔
ظفر گوہر کا ماننا ہے کہ انگلش کنڈیشنز میں بطور اسپنر ان کا تجربہ انگلینڈ کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتا ہے اگر انہیں موقع دیا جائے۔
پاکستان کے لیے اپنے مختصر کیریئر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قومی سطح تک پہنچنے پر فخر محسوس کرتے ہیں، تاہم انہیں افسوس ہے کہ انہیں اپنی ڈومیسٹک کارکردگی کے مطابق زیادہ مواقع نہیں مل سکے۔

WhatsApp
Get Alert