خیبرپختونخوا میں آپریشن کا مقصد تحریک انصاف کو ختم کرنا ہے، وزیراعلیٰ کے پی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ)وزیراعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہم صرف ٹی ٹی پی نہیں بلکہ تمام دہشت گرد تنظیموں کی مخالفت کرتے ہیں، خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز سے امن قائم نہیں ہوگا، کے پی میں آپریشن کا مقصد عمران خان اور پی ٹی آئی کو ختم کرنا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی تین روزہ دورے کے سلسلے میں دوپہر 1 بج کر 55 منٹ پر کراچی پہنچے اور پھر ریلی کی قیادت کرتے ہوئے باغ جناح پہنچے۔ جہاں انہوں نے اتوار کو ہونے والے انتظامات کا جائزہ لیا۔
ایئرپورٹ سے باغ جناح اور پھر کراچی پریس کلب تک جگہ جگہ وزیراعلیٰ اور اُن کے ساتھ چلنے والی ریلی کا استقبال کیا گیا جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی کے کارکنان بانی کے حق میں نعرے بازی بھی کرتے رہے۔
باغ جناح سے وزیراعلیٰ قافلے کی صورت میں کراچی پریس کلب پہنچے جہاں میٹ دی پریس سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کے حوالے سے میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے، خیبر پختونخوا میں امن ملٹری آپریشن سے قائم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اگر مجھے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بات چیت پر بلائیں گے تو میں لازمی جاؤں گا، وفاق ۔کے پی حکومت ۔سیاسی جماعتیں اور سیکورٹی ادارے مل کرخیبر پختونخوا میں قیام امن کے لیے راستہ نکالیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کسی سے بھی قسم کے مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر کے پاس ہے وہی یہ معاملہ دیکھیں گے۔بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ شروع کی ہے اور اس سلسلے میں 11 جنوری کو باغ جناح کراچی میں پی ٹی آئی کی جانب سے جلسہ بھی منعقد کیا جارہا ہے۔
وزیر اعلی کے پی کے سہیل آفریدی نے صحافیوں سے تاخیر سے پہنچنے پر مذرت کی اور کہا کہ کارکنان کے بہترین استقبال کی وجہ سے میں دیر سے پہنچا ہوں ۔میرا یہاں آنے کا مقصد یہ ہے کہ عمران خان نے مجھے ذمہ داری دی ہے کہ اسٹریٹ موومنٹ کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پنجاب گیا وہاں جو رویہ پنجاب میں ہمارے پارلیمنٹیرینز کے ساتھ کیا وہ شدید افسوسناک ہے، ہمیں وہ رویہ بالکل اچھا نہیں لگا۔ابھی عمران خان کی ہدایت پر سندھ کے دارالحکومت کراچی میں آیا ہوں میں یہاں اپنے تنظیمی اور سندھ کے دوستوں سے ملوں گا۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے جلسے کی درخواست دی ہوئی تھی ہم نے تمام لوازمات پورے لیے ہیں لیکن ابھی تک ہمیں جواب نہیں ملا ہے، ہم ان شاء اللہ 11 کو کراچی میں جلسہ کرنے جارہے ہیں جو تاریخی جلسہ ہوگا۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ میرے لیڈر عمران خان نے حقیقی آزادی کی تحریک میں اقتدار پانا نہیں بلکہ اس میں آزاد قانون ، آزاد میڈیا کی بحالی ہے، جس وجہ سے انکو یہ سزا ملی کہ وہ نا حق قید میں ہیں۔انکی بیگم بشری بی بی نا حق قید میں ہیں عمران خان کی بہنیں اپنے بھائی سے ملنے اڈیالہ جاتی ہیں انکو ملنے نہیں دیا جاتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو بنیادی قید میں انسانی حقوق ہیں لیکن وہ ہمارے لیڈر عمران خان کو نہیں دیے جارہے ہیں،عمران خان کی فیملی سے ان کے رفقاء سے ملاقات نہیں ہونے دی جارہی ہے۔میرا قائد سب سے مقبول ترین لیڈر ہے۔ میرے لیڈر عمران خان کی حکومت کو 9 اپریل کو غیرقانونی طور پر ختم کیا گیا، ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔ ہماری جنگ ذات کی نہیں اپ سب کی جنگ ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہمارے صحافیوں کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا۔ وہ سب جانتے ہیں میں نام لے کر تھک جاؤنگا لیکن نام ختم نہیں ہونگے، آپ سب میڈیا والوں نے ہمارا ساتھ دینا یے، یہاں بھی وہی فسطائیت شروع ہے جو سب دیکھ رہے ہیں، صحافتی برادری اور سیاست دانایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں ابھی تک ہمیں زرداری کی حکومت نظر آرہی ہے ، بھٹو کی حکومت نہیں ہے لیکن ہم ابھی مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی عوام پاکستان تحریک انصاف سے مطمئن ہے، پورے پاکستان میں خیبرپختونخوا کی حکومت عوام کے ووٹوں سے آئی ہے، عوام عمران خان پر اعتماد کرتے ہیں جس وجہ سے تیسری بار عوام نے عمران خان کو موقع دیا۔
