جامعہ بلوچستان میں بدانتظامی اور انتظامیہ کی سست روی، ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ کے مستقبل سے کھیل جاری

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)جامعہ بلوچستان دنیا کی اُن چند جامعات میں شامل ہے جو ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز کے لیے فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع نہیں کرتیں۔ اس سخت پالیسی اور انتظامیہ کی سست روی کے باعث نہ صرف یونیورسٹی کو مالی نقصان کا سامنا ہے بلکہ مستقبل کے ریسرچرز کی قیمتی صلاحیتیں بھی ضائع ہو رہی ہیں۔ تعلیمی حلقوں کے مطابق اعلیٰ تعلیم جیسے اہم شعبے میں اس قسم کا غیر سنجیدہ رویہ قابلِ تشویش ہے۔
جون میں اعلان کیے گئے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے داخلہ ٹیسٹ بدانتظامی کے باعث منسوخ کر دیے گئے تھے، تاہم اس کے بعد بھی انتظامیہ متبادل نظام اور شفاف لائحہ عمل وضع کرنے میں ناکام رہی۔ اب ایک بار پھر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے داخلہ پورٹل بند کر دیا گیا ہے، جسے طلبہ انتظامیہ کی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل قرار دے رہے ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب جامعہ بلوچستان اور اس کے مختلف ڈیپارٹمنٹس سیل ہونے کے باعث طلبہ و طالبات کی ڈگریوں، اسناد اور داخلہ فارموں کی تصدیق کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔ ڈیپارٹمنٹ سیل ہونے اور انتظامیہ کی سست روی کے سبب طلبہ کو متعلقہ دفاتر تک رسائی حاصل نہیں ہو پا رہی، جس سے ایم فل اور پی ایچ ڈی سمیت دیگر تعلیمی پروگرامز کے داخلہ مراحل شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف انتظامیہ داخلوں کی تاریخ میں توسیع دینے سے انکار کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب تصدیقی عمل کے لیے ضروری دفاتر بند اور فائلیں ہفتوں سے التوا کا شکار ہیں۔ اس دوہرے معیار اور سست انتظامی رویے نے طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ، بے یقینی اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔
یونیورسٹی کے انڈرگریجویٹ اسٹوڈنٹس آفس کے مطابق حالیہ بی ایس 2025 پروگرام میں داخلوں کی تعداد کم ترین سطح پر رہی، جسے ماہرین جامعہ بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدانتظامی، انتظامی غفلت اور غیر یقینی تعلیمی ماحول کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
طلبہ، والدین اور تعلیمی حلقوں نے معزز بلوچستان ہائی کورٹ اور گورنر بلوچستان، جو جامعہ بلوچستان کے چانسلر بھی ہیں، سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی بدانتظامی اور سست روی کا ازخود نوٹس لیا جائے، داخلہ پورٹل فوری بحال کیا جائے، ڈیپارٹمنٹس کھولے جائیں، زیر التوا تصدیقی عمل مکمل کیا جائے اور ایم فل و پی ایچ ڈی سمیت تمام پروگرامز کے لیے فارم جمع کرانے کی تاریخ میں معقول توسیع دی جائے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل مزید داؤ پر نہ لگے۔
