دس لاکھ سے کم میں کون سی گاڑیاں خریدی جاسکتی ہیں؟گاڑیوں کی مکمل تفصیلات


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)پاکستان میں 2026 کے دوران گاڑیاں خریدنا عام شہری کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث اب زیادہ تر افراد کے لیے نئی گاڑی خریدنا ممکن نہیں رہا۔ ایسے حالات میں کم بجٹ رکھنے والے خریداروں کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی مارکیٹ ہی واحد سہارا بن گئی ہے۔ تاہم ایک ملین روپے سے کم بجٹ میں مناسب گاڑی تلاش کرنا نہ صرف مشکل بلکہ خاصا صبر آزما بھی ہے۔
اس بجٹ میں دستیاب زیادہ تر گاڑیاں پرانی، زیادہ استعمال شدہ یا تکنیکی مسائل کا شکار ہوتی ہیں۔ اکثر گاڑیوں میں انجن کی خرابی، باڈی میں زنگ یا غیر معیاری مرمت جیسے مسائل پائے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے خریداروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے باوجود اگر مکمل جانچ پڑتال اور درست معلومات کے ساتھ گاڑی خریدی جائے تو کچھ ماڈلز اب بھی روزمرہ استعمال کے لیے قابلِ اعتماد ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایک ملین روپے سے کم بجٹ میں سیڈان گاڑی کے خواہشمند افراد کے لیے ہونڈا سِوک کے 1990 کی دہائی کے ماڈلز ایک آپشن ہو سکتے ہیں۔ 1995 کے ماڈلز بعض اوقات آٹھ لاکھ روپے کے قریب دستیاب ہوتے ہیں، جبکہ 1997 سے 1999 کے ماڈلز کی قیمتیں نو لاکھ سے دس لاکھ روپے کے درمیان دیکھی جاتی ہیں۔ اگرچہ یہ گاڑیاں پرانی ہو چکی ہیں، لیکن اچھی حالت میں موجود گاڑیاں آج بھی آرام دہ سفر فراہم کر سکتی ہیں۔
سوزوکی بیلینو بھی اس بجٹ میں دستیاب ایک اور سیڈان گاڑی ہے، جو اگرچہ اب تیار نہیں کی جاتی لیکن اب بھی مارکیٹ میں نظر آتی ہے۔ 2000 کے ابتدائی ماڈلز تقریباً آٹھ لاکھ پچاس ہزار روپے میں مل سکتے ہیں، جبکہ 2003 سے 2005 کے ماڈلز کی قیمت ایک ملین روپے کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ یہ گاڑی کم قیمت میں سیڈان خریدنے والوں کے لیے مناسب انتخاب سمجھی جاتی ہے۔
شہری استعمال کے لیے سوزوکی کلٹس 2007 بھی ایک قابلِ غور آپشن ہے، جس کی قیمت عام طور پر آٹھ لاکھ پچاس ہزار سے نو لاکھ پچاس ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے۔ کم ایندھن خرچ اور آسان دیکھ بھال اس کی نمایاں خصوصیات ہیں۔
سوزوکی مہران اس بجٹ میں سب سے زیادہ مقبول گاڑی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے سستے اسپیئر پارٹس، آسان مرمت اور بہتر ری سیل ویلیو کی وجہ سے آج بھی خریداروں کی پہلی پسند بنی ہوئی ہے۔ 2026 میں اچھی حالت کی مہران عموماً آٹھ لاکھ پچاس ہزار سے دس لاکھ روپے تک دستیاب ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس بجٹ میں گاڑی خریدتے وقت ماڈل یا برانڈ سے زیادہ گاڑی کی مجموعی حالت کو ترجیح دینا ضروری ہے، کیونکہ درست انتخاب ہی مستقبل میں اضافی اخراجات سے بچا سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert