پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول مراکز تباہ، امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ، بحرین میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بارش

واشنگٹن؍(قدرت روزنامہ)امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی و امریکی حملوں کے جواب میں ایران اسرائیل کے شہروں کو نشانہ بنانے کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ آج صبح سویرے بحرین میں امریکی فضائی اڈے پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش ہوئی ہے۔
ٹرمپ کی کارروائیاں تیسری جنگ عظیم کا آغاز کرسکتی ہیں، سابق روسی صدر
روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف نے خبردار کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مختلف ممالک میں حکومتیں بدلنے کی کوششیں تیسری جنگ عظیم کا آغاز کر سکتی ہیں۔
میدویدیف کے مطابق ایران پر حملہ امریکی اور اتحادی طاقتوں کی عالمی تسلط کی کوشش کا حصہ ہے اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کرنے سے امریکی خود خطرے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری پروگرام کو تیز کرے گا اور اس میں کامیاب ہوگا کیونکہ امریکی اقدامات نے اسے سماجی استحکام فراہم کیا ہے۔ روس پر حملے کا امکان نہیں کیونکہ امریکہ ایٹمی جنگ کی قیمت جانتا ہے۔
نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، ایرانی حکام
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں زیادہ وقت نہیں لگے گا، اور رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آئین ایران کے مطابق ہوگا۔
ایران کی خبر ایجنسی ایسنا کے مطابق ایران کی مجلس خبرگان کے ایک رکن نے کہا ہے کہ نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل زیادہ طویل نہیں ہوگا اور جلد ہی اسی حوالے سے اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مجلس خبرگان کے رکن علی معلمی نے بیان میں کہا کہ ارکان مجلس نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ نئے رہبر کے انتخاب میں کسی قسم کے ذاتی، سیاسی یا جماعتی رججانات کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ اور ایرانی صدر اس عبوری کونسل کے 3 اراکین میں شامل ہیں جو نئے سپریم لیڈر کے انتخاب تک ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگان کے تمام اراکین نے حلف اٹھا رکھا ہے کہ وہ اسلامی اصولوں، آئینی تقاضوں اور اپنی شرعی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں گے تاکہ رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر شفاف اور آئین ایران کے مطابق ہوگا۔
مجلس خبرگان آئینی طور پر ایران میں سپریم لیڈر کی مجاز اتھارٹی ہے۔ یہ مذہبی ماہرین پر مشتمل ایک بااختیار ادارہ ہے۔ علی معلمی نے کہا کہ جس طرح ماضی میں قیادت کا انتخاب کیا گیا تھا، اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس بار بھی ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا جائے گا جو انقلاب کے بنیادی نظریات اور قومی مفادات کی پاسداری کرے۔
The US and Israeli air war against Iran widened, with no end in sight as Israel attacked Lebanon in response to strikes by Hezbollah and Tehran kept up its missile and drone attacks on Gulf states https://t.co/5w0c45DZF5 pic.twitter.com/qz9FKX97MV
— Reuters (@Reuters) March 3, 2026
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ مجلس خبرگان پہلے بھی اہم مواقع پر متفقہ اور بروقت فیصلےکرتی رہی ہے، اس لیے اس بار بھی انتخابی عمل میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو قیادت کے حوالے سے کسی قسم کے خلا کا سامنا نہیں ہوگا اور ریاستی امور معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔
انہوں نے مرحوم سپریم لیڈر علی خامنہ ای کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجلس خبرگان اسی طرح ایک مضبوط اور باصلاحیت رہنما کا انتخاب کرے گی جیسا کہ ماضی میں کیا گیا تھا۔ واضع رہے کہ علی خامنی ای ہفتہ کی صبح امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوئے تھے، جس کے بعد ملک میں سوگ کی فضا پائی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نئے سپریم لیڈر کےانتخاب کا عمل ایران کی داخلی اور خارجی پالیسیوں پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے، تاہم حکومتی حلقے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ آئینی طریقہ کار کے تحت تمام مراحل جلد مکمل کرلیے جائیں گے۔
ایرانی حملے کے بعد ریاض میں قائم امریکی سفارت خانہ بند
ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے نے تمام ویزا خدمات، اپائٹمنٹس اور دیگر خدمات عارضی طور پر معطل کردی ہیں۔
سفارت خانے نے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے ‘شیلٹر اِن پلیس’ یعنی گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی۔ بیان کے مطابق منگل 3 مارچ کو امریکی مشن بند رہے گا اور تمام معمول کی اور ہنگامی امریکن سٹیزن سروسز اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی گئی ہیں۔
مشن نے واضح کیا کہ جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے جاری گھروں میں رہنے کی ہدایت بدستور برقرار ہے اور مملکت میں موجود امریکی شہریوں کو بھی اسی پر عمل کی سفارش کی گئی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ حملے کے باعث آئندہ اطلاع تک سفارت خانے سے گریز کیا جائے اور خطے میں فوجی تنصیبات کے غیر ضروری سفر کو محدود رکھا جائے۔
امریکی مشن کا کہنا ہے کہ وہ علاقائی صورتِ حال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ شہریوں کو تازہ ترین سیکیورٹی الرٹس کا جائزہ لینے، ممکنہ خلل کے پیش نظر سفری منصوبوں پر نظرِ ثانی کرنے اور ذاتی حفاظتی منصوبہ تیار رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمارٹ ٹریولر انرولمنٹ پروگرام میں اندراج یا دوبارہ اندراج، درست پاسپورٹ کی دستیابی یقینی بنانے، اردگرد کے حالات سے باخبر رہنے اور بڑے اجتماعات و مظاہروں سے دور رہنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
Security Alert: Consular Appointments Cancelled – U.S. Mission to the Kingdom of Saudi Arabia (Mar. 3, 2026)
The U.S. Mission to Saudi Arabia is closed on Tuesday, March 3. All routine and emergency American Citizen Services appointments are cancelled. The shelter in place…
— U.S. Embassy Riyadh (@USAinKSA) March 3, 2026
واضح رہے کہ اس سے قبل عرب نیوز کے مطابق سعودی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت میں معمولی آگ بھڑک اٹھی اور جزوی نقصان ہوا۔
کام کے مطابق حملے کے وقت سفارت خانہ خالی تھا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
شہریوں، اسکولوں اور اسپتالوں پر امریکی و اسرائیلی حملوں پر اقوام متحدہ کو گہری تشویش
متحدہ کے اعلیٰ حکام نے ایران اور خطے میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے بعد بچوں کے لیے ’سنگین خطرے‘ کی وارننگ جاری کی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل برائے بچوں اور مسلح تنازعات کی خصوصی نمائندہ وینیسا فریزئیر اور بچوں کے خلاف تشدد کے معاملے میں سیکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ نجات معلا مْجد نے مشترکہ بیان میں کہا ’ہمیں شہریوں، بشمول شہری انفراسٹرکچر، اسکولوں اور اسپتالوں پر حملوں پر گہری تشویش ہے۔ اسکولوں اور اسپتالوں پر کسی بھی حال میں حملہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور زور دیا کہ زیادہ سے زیادہ ضبط ضروری ہے، اور تمام فریقین کو ہر وقت بین الاقوامی انسانی حقوق اور ہنگامی قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنانی ہوگی۔
ایرانی حکام کے مطابق، مناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے میں کم از کم 165 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملک کے 9 اسپتالوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کنٹرول مراکز تباہ، امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام)، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں کی ذمہ دار ہے، نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز کو تباہ کر دیا ہے۔
سینٹ کام کے مطابق کارروائیوں میں فضائی دفاعی تنصیبات، میزائل اور ڈرون لانچنگ سائٹس اور ایئرفیلڈز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کیا گیا، تاہم سینٹ کام نے اپنے مؤقف کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے لاحق فوری خطرات کے خلاف ہم فیصلہ کن اقدامات جاری رکھیں گے۔
Two days ago, the Iranian regime had 11 ships in the Gulf of Oman, today they have ZERO. The Iranian regime has harassed and attacked international shipping in the Gulf of Oman for decades. Those days are over. Freedom of maritime navigation has underpinned American and global… pic.twitter.com/nzdkMVMqZC
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 2, 2026
حزب اللہ کا اسرائیل کے فضائی اڈے پر ڈرونز سے حملہ
لبنان کی مسلح تنظیم حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شمالی اسرائیل میں واقع رامات ڈیوڈ ایئر بیس پر حملہ کیا ہے۔
تنظیم کے بیان کے مطابق آج علی الصبح ڈرونز کے ایک جتھے کے ذریعے اڈے پر موجود ریڈار نظام اور کنٹرول رومز کو نشانہ بنایا گیا۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں متعدد ڈرون استعمال کیے گئے۔
حزب اللہ نے کہا کہ یہ حملہ لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیل کی جانب سے کیے گئے مہلک حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔
تاحال اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
بحرین میں امریکی فضائی اڈے پر ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی بارش
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں واقع امریکی فضائی اڈے پر بڑا حملہ کیا ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے مطابق آج صبح بحرین کے شیخ عیسیٰ کے علاقے میں قائم امریکی ایئر بیس کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 20 ڈرون اور 3 میزائل استعمال کیے گئے۔
بیان کے مطابق حملے کے نتیجے میں امریکی فضائی اڈے کی مرکزی کمان اور ہیڈکوارٹر کی عمارت کو تباہ کر دیا گیا جبکہ ایندھن کے ٹینکوں میں آگ لگ گئی۔ تاہم اس واقعے پر بحرین کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
بروز پیر: امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 96 ایرانی شہری شہید
طرف ایران پر امریکی و اسرائیلی مشترکہ حملے مسلسل جاری ہیں۔ پیر کے روز حملوں میں مزید 96 شہری شہید ہوگئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔
ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی نے اپنی تازہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز ایران میں ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 96 افراد شہید ہوئے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی میں قائم اس تنظیم کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 85 عام شہری اور 11 فوجی اہلکار جان کی بازی ہار گئے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد اب تک مجموعی طور پر کم از کم 742 شہری شہید ہو چکے ہیں۔
ہرانا کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 176 بچے بھی شامل ہیں، جو صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس سے قبل ایرانی ہلال احمر نے ہلاکتوں کی تعداد 555 بتائی تھی۔
دوسری جانب الجزیرہ کا کہنا ہے کہ وہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔
ہرانا کے مطابق پیر کے روز ہونے والے حملوں میں مختلف مقامات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کئی فوجی اڈے، 2 رہائشی علاقے اور بندر عباس میں واقع شہید باہنر پیئر بھی شامل ہے۔
خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی جہاز تباہ کردیے، امریکا کا دعویٰ
مشرق وسطیٰ شدید جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں ہے، اور امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں موجود تمام ایرانی جہاز تباہ کردیے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق 2 روز قبل خلیج عمان میں ایرانی نیوی کے 11 جہاز موجود تھے، لیکن اب اس علاقے میں ان کی موجودگی مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
Two days ago, the Iranian regime had 11 ships in the Gulf of Oman, today they have ZERO. The Iranian regime has harassed and attacked international shipping in the Gulf of Oman for decades. Those days are over. Freedom of maritime navigation has underpinned American and global… pic.twitter.com/nzdkMVMqZC
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 2, 2026
دوسری جانب لبنان کی تنظیم حزب اللہ بھی جنگ میں کود پڑی اور اس نے ایک اسرائیلی فوجی اڈے کو راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں، ادھر ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی اہلیہ منصوره خجستہ باقرزادہ حالیہ فوجی حملوں میں لگنے والی شدید چوٹوں کے باعث زندگی کی بازی ہار گئیں۔
Iran's IRGC claims attacks on Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu's office. pic.twitter.com/qA6JFRkFlB
— China Xinhua News (@XHNews) March 2, 2026
ایرانی سرکاری میڈیا نے تصدیق کی ہے کہ منصوره خُجسطہ شوہر کی شہادت کے بعد سے زخمی تھیں آج ان زخموں کے باعث انتقال کر گئیں۔
کسی جہاز نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کی تو راکھ کردیں گے، پاسداران انقلاب
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی دعوے کے بعد وارننگ جاری کی ہے کہ یہ تجارتی گزرگاہ مکمل طور پر بند ہے۔
پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ کسی بھی جہاز نے اس سے گزرنے کی کوشش کی تو اسے راکھ کر دیا جائے گا۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے دعویٰ کیا تھا کہ خلیج فارس میں آبنائے ہرمز کے قریب 11 ایرانی جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں، جس کے بعد ایرانی حکام نے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اپنی سرحدی حدود کی مکمل نگرانی کی یقین دہانی کرائی۔
ایران کا اسرائیل پر نئے حملوں کا دعویٰ
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ جنوبی اسرائیل کے شہر کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کی گیارہویں لہر کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حملے میں اسرائیلی فوج کی مواصلاتی صنعتوں کے ایک کمپلیکس کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک عمارت کی تصویر بھی جاری کی، جس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ اسے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایجنسی نے دعویٰ کیاکہ مذکورہ عمارت میں بڑی بین الاقوامی کمپنیاں قائم ہیں، جن میں مائیکروسافٹ بھی شامل ہے۔
500 اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے، ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے تیسرے دن تک قریباً 500 اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے بیان کے مطابق تنازع کے آغاز سے اب تک ایرانی مسلح افواج کے بہادر جوانوں نے 60 اسٹریٹیجک اہداف اور 500 امریکی و صہیونی ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کارروائیوں میں اب تک 700 سے زیادہ ڈرونز اور سیکڑوں میزائل داغے جا چکے ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔
دوسری طرف تہران میں مسلسل تیسرے روز بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں ایک ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے۔
BREAKING:
Iran strikes UAE oil platform in the Persian Gulf.#Follow4moreUpdate 👍👣👍#uaeattack #Iran #Israel #Viralvideos pic.twitter.com/ctrJsq9n3m
— Dom Niq🤝 (@forson_dom71078) March 1, 2026
ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دارالحکومت پر بمباری سے ان کی جنگی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔
اسرائیل نے بھی تہران پر نئی فضائی کارروائی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد ایران نے خلیج میں میزائل حملوں سے جواب دیا۔ ان پی رفتوں نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور فضائی سفر کو بھی شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی تیل بردار جہاز پر حملے کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں امریکی ملکیت کے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاسداران انقلاب کے مطابق حملہ 2 ڈرونز کے ذریعے کیا گیا، جس کے نتیجے میں ٹینکر میں آگ لگ گئی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
یہ واقعہ اس اعلان کے دو روز بعد پیش آیا ہے جس میں ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، دنیا کے خام تیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی گزرگاہ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جو صرف 40 کلومیٹر چوڑی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران میں زمینی فوج بھیجنے کا عندیہ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں زمینی افواج بھیجنے کے امکان کو مکمل طور پر مسترد کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشگی کسی بھی آپشن کو خارج نہیں کریں گے۔
امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ماضی کے صدور کی طرح پہلے ہی یہ اعلان نہیں کریں گے کہ زمینی فوج استعمال نہیں کی جائے گی۔
ان کے بقول حالات ایسے بھی ہو سکتے ہیں جہاں اس کی ضرورت پیش نہ آئے، تاہم یہ امکان بھی موجود ہے کہ مستقبل میں یہ قدم ناگزیر بن جائے۔
بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امریکا کے اہداف واضح کیے۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے میزائل پروگرام کو غیر مؤثر بنانا، اس کی بحری قوت کو نقصان پہنچانا اور تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا چاہتا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران کو اپنی سرحدوں سے باہر مسلح گروہوں کو اسلحہ، مالی وسائل اور تربیت فراہم کرنے سے باز رکھنا بھی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
صدر کے مطابق ایران کا میزائل پروگرام دراصل جوہری صلاحیت کے تحفظ کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ اگر ایران کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں تک رسائی مل گئی تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ امریکا کے لیے بھی سنگین خطرہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس پیش رفت کو روکنے کے لیے پرعزم تھا اور عالمی برادری کی حمایت بھی حاصل تھی۔
ٹرمپ نے مزید کہاکہ واشنگٹن نے پہلے سفارتی ذرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن مذاکرات بارہا ناکام رہے۔ ان کے بقول اسی پس منظر میں فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا کیونکہ یہ اقدام خطرات کے خاتمے کا آخری موقع سمجھا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ایران کے 10بحری جہاز تباہ کیے جا چکے ہیں جبکہ اس کی میزائل تیاری کی صلاحیت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ صدر کے مطابق جاری عسکری آپریشن منصوبے سے تیز رفتار ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق یہ کارروائی چار سے پانچ ہفتوں پر محیط ہونی تھی، تاہم ضرورت پڑنے پر اسے طول دینے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
اپنی گفتگو میں ٹرمپ نے سابق صدر براک اوباما کے دور میں طے پانے والے ایران جوہری معاہدے سے 2018 میں علیحدگی کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ معاہدہ انتہائی ناقص اور خطرناک تھا اور اگر اسے برقرار رکھا جاتا تو ایران چند برس قبل ہی جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ انہوں نے اس معاہدے کے خاتمے کو اپنی حکومت کا اہم اقدام قرار دیا۔
کویتی فضائی دفاع کی فائرنگ سے 3 امریکی لڑاکا طیارے تباہ، سینٹ کام کی تصدیق
سینٹ کام نے تصدیق کی ہے کہ کویت کے فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے امریکی فضائیہ کے 3 ایف 15 طیاروں کو نشانہ بنا دیا۔
سینٹ کام کے بیان کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز پیش آیا جب 3 ایف 15 طیارے غلطی سے مار گرائے گئے۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ تینوں طیاروں میں سوار تمام 6 اہلکار بحفاظت ایجیکٹ کرنے میں کامیاب رہے۔ انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر لیا گیا ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کویت نے اس واقعے کو تسلیم کر لیا ہے اور جاری آپریشن کے دوران کویتی دفاعی افواج کے تعاون اور کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
At 11:03 p.m. ET, March 1, three U.S. F-15E Strike Eagles flying in support of Operation Epic Fury went down over Kuwait due to an apparent friendly fire incident.
Read more:https://t.co/i2y3Q3vo2E
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 2, 2026
کویت میں متعدد امریکی لڑاکا طیارے تباہ
کویت کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں ’متعدد‘ امریکی لڑاکا طیارے گر گئے، تاہم تمام پائلٹس اور عملے کے افراد محفوظ ہیں۔
الجزیرہ نے کویتی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں اور فوری طور پر تلاش اور ریسکیو آپریشنز کے ذریعے اسپتال منتقل کیے گئے، جہاں ان کا طبی معائنہ کیا گیا۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔ کویتی حکام امریکی فورسز کے ساتھ مل کر کارروائی کر رہے ہیں۔
