افسر شاہی اب اے سی والے کمروں میں نہیں، سڑک پر رہے گی !” روڈ کی تعمیر میں سست روی پر وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا پارہ ہائی، ایکسیئن اور انجینئرز کو پراجیکٹ سائٹ پر ‘ڈیرے’ ڈالنے کا حکم، غفلت اب برداشت نہیں ہوگی!

ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابلِ قبول: وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کی رکھنی تا بیکڑ روڈ کے ٹھیکیدار اور انجینئرز کو سخت وارننگ ایس ای اور ایکسیئن کام کی تکمیل تک موقع پر موجود رہیں، معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، سیکرٹری مواصلات کو ہر ماہ سائٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت، عوامی مفاد کا منصوبہ ہر صورت وقت پر مکمل کرنے کا عزم


کوئٹہ (26 مارچ 2026) (ڈیلی قدرت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً رکھنی تا بیکڑ بلیک ٹاپ روڈ کی تعمیر میں سست روی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور تعمیراتی کمپنی کو کڑی وارننگ جاری کر دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ عوامی منصوبوں میں تاخیر اور سستی کا دور ختم ہو چکا ہے اور اب نتائج دینا ہوں گے۔
وزیراعلیٰ کی زیرِ صدارت منعقدہ جائزہ اجلاس میں منصوبے پر جاری کام کی رفتار کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ کے دوران کام کی سست رفتار سامنے آنے پر وزیراعلیٰ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔
اجلاس کے اہم فیصلے اور ہدایات:
فیلڈ میں موجودگی لازمی: وزیراعلیٰ نے حکم دیا کہ متعلقہ تعمیراتی کمپنی کا نمائندہ، سپرنٹنڈنگ انجینئر (SE) اور ایکسیئن (XEN) اس وقت تک پراجیکٹ سائٹ سے نہیں ہلیں گے جب تک سڑک مکمل نہیں ہو جاتی۔ ان افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ موقع پر موجود رہ کر کام کی رفتار تیز کرائیں۔
بلیک ٹاپ اور پلوں کی تعمیر: ہدایت کی گئی کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ پر بلیک ٹاپنگ (کالین بچھانے) اور پلوں کی تعمیر مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائے تاکہ علاقے کے عوام کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو۔
سخت مانیٹرنگ: وزیراعلیٰ نے سیکرٹری مواصلات و تعمیرات (C&W) کو پابند کیا ہے کہ وہ ہر ماہ خود پراجیکٹ سائٹ کا دورہ کریں اور کام کی پیش رفت کی رپورٹ براہِ راست پیش کریں۔
معیار پر زیرو ٹالرنس: سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ کام کی رفتار بڑھانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ معیار گرا دیا جائے۔ سڑک کی تعمیر میں معیار پر کوئی سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ رکھنی تا بیکڑ روڈ کی بروقت تکمیل سے علاقے میں سماجی اور معاشی انقلاب آئے گا اور دور دراز علاقوں کا کوئٹہ اور دیگر شہروں سے رابطہ بہتر ہوگا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر آئندہ اجلاس تک پیش رفت تسلی بخش نہ ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

WhatsApp
Get Alert