بولان میں بارشوں کے بعد مچھروں کی یلغار سے وبائی امراض پھوٹ پڑے، انتظامیہ اور محکمہ صحت کی غفلت نے عوام کو بیماریوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا


بولان (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان کے مختلف حصوں سمیت ضلع کچھی بولان میں حالیہ بارشوں کے بعد مچھروں کی یلغار نے ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے، جس کے باعث شہریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ گلی کوچوں، جوہڑوں اور مختلف مقامات پر کھڑے پانی نے مچھروں کی افزائش کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ ضلع بھر میں خوف و اضطراب کی کیفیت گہری ہوتی جا رہی ہے۔کچھی بولان کے سیاسی، سماجی اور عوامی حلقوں کے مطابق مچھروں کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں ملیریا، ٹائفائیڈ اور مختلف اقسام کی الرجی جیسے جان لیوا امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ مقامی ہسپتالوں میں مریضوں کا تانتا بندھا ہوا ہے، جہاں بخار، جسمانی ٹوٹ پھوٹ اور شدید نقاہت کے شکار افراد کی بڑی تعداد طبی امداد کے لیے رجوع کر رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ راتوں کی نیند سے محروم ہو کر اذیت ناک لمحات گزارنے پر مجبور ہیں اور مچھر اب ایک ناقابلِ شکست لشکر کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر کچھی اور کمشنر نصیر آباد ڈویژن سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے ضلع بھر میں ہنگامی بنیادوں پر مچھر مار اسپرے مہم کا آغاز کیا جائے اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنا کر کھڑے پانی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت ٹھوس حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو یہ خاموش خطرہ ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے، جس پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert