ٹرمپ کی منظوری سے جنگ کے خطرناک ترین مرحلے کا آغاز، 3500 امریکی میرینز اور جنگی طیاروں سے لیس بحری بیڑہ ‘یو ایس ایس طرابلس’ مشرق وسطیٰ پہنچ گیا


واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکی اخبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ نے اپنی ایک سنسنی خیز رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پینٹاگون نے ایران کے خلاف زمینی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں، جس سے خطے میں جاری جنگ ایک نئے اور انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ زمینی کارروائی کسی مکمل یلغار کے بجائے ‘محدود نوعیت’ کی ہو سکتی ہے، تاہم اس کا مقصد ایران کے تزویراتی (Strategic) مقامات پر ضرب لگانا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ منظوری کے بعد شروع ہونے والے اس مشن میں ایران کے اہم ترین تیل بردار جزیرے ‘خارگ’ پر قبضہ کرنے اور آبنائے ہرمز کے ساحلی علاقوں پر براہِ راست حملوں پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے تاکہ تہران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکے۔
دوسری جانب، ان جنگی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ایک تازہ دم امریکی بحری بیڑہ ‘یو ایس ایس طرابلس’ (USS Tripoli) مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں پہنچ گیا ہے، جس پر 3500 سے زائد ماہر امریکی فوجی اور میرینز سوار ہیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق، اس بحری بیڑے پر جدید ترین اسٹیلتھ جنگی طیارے، جدید تکنیکی آلات اور بھاری ہتھیار بھی موجود ہیں، جو کسی بھی وقت ساحلی علاقوں میں آپریشن شروع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی جانب سے زمینی دستوں کی اس بڑی نقل و حرکت نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کو نقطۂ عروج پر پہنچا دیا ہے، جس سے پورے خطے کا نقشہ بدل سکتا ہے۔

WhatsApp
Get Alert