وژن 2030 کے تحت سعودی عرب ڈیجیٹل قیادت کیلئے تیار، مصنوعی ذہانت کی تربیت میں خواتین کے عالمی تناسب میں مملکت کی پہلی پوزیشن، 6 لاکھ سے زائد خواتین کو اے آئی کی تربیت فراہم


ریاض (قدرت روزنامہ) وژن 2030 کے اہداف کے تحت سعودی عرب ڈیجیٹل دور میں شمولیت کے لیے ایک نئے عالمی معیار کی قیادت کر رہا ہے جہاں حکومتی ہدایات اور نجی شعبے کے انیشیٹیو کے ذریعے مملکت خواتین کو مصنوعی ذہانت کے دور میں فرنٹ پر کھڑا ہونے کے لیے تیار کر رہی ہے۔
عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ’ہومین‘ میں اے آئی ریسرچ کی نائب صدر عریب العویشق نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب اب مصنوعی ذہانت کی تربیت میں خواتین اور مردوں کے تناسب کے اعتبار سے دنیا میں سبقت رکھتا ہے جو مملکت کے اس شعبے میں خواتین کو آگے بڑھانے کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ رفتار صرف تربیت تک محدود نہیں رہے گی بلکہ جدت کے دیگر شعبوں تک بھی پھیلے گی، یہی وہ طریقہ ہے جو سعودی عرب کو منفرد بناتا ہے اور دنیا کے دیگر حصوں کے لیے بھی اسے ایک قابلِ مطالعہ ماڈل بناتا ہے۔ 20 سال سے زیادہ کا تجربہ رکھنے والی عریب العویشق، جنہوں نے اولین عربی اے آئی ماڈلز تیار کیے، کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی یہ ترقی راتوں رات حاصل نہیں ہوئی بلکہ یہ تعلیم میں دہائیوں کی مسلسل سرمایہ کاری اور 2016 کے اقتصادی ’موڑ‘ کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس کی بنیاد خادم الحرمین الشریفین سکالرشپ جیسے پروگرامز کے ذریعے رکھی گئی جس کے تحت ایک لاکھ سے زیادہ مرد و خواتین کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے مالی مدد فراہم کی گئی، جبکہ 2005 میں شروع ہونے والے کنگ عبداللہ سکالرشپ پروگرام نے 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد شہریوں کی معاونت کی۔
ملکی سطح پر شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی دہائیوں سے طب اور انجینیئرنگ میں خواتین کو تعلیم دے رہی ہے اور 2017 تک سعودی عرب میں خواتین گریجویٹس کی تعداد مردوں سے بڑھ چکی تھی۔ خواتین کی ورک فورس میں شمولیت کا اصل موڑ 2016 میں وژن 2030 کے ساتھ آیا جب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ سعودی خواتین ایک بڑا اقتصادی وسیلہ ہیں جنہیں بروئے کار لانا ضروری ہے۔

وژن 2030 کے تحت خواتین کی شمولیت کا ہدف 22 سے بڑھا کر 30 فیصد مقرر کیا گیا تھا تاہم رکاوٹوں کی دوری، ڈرائیونگ سے پابندی کے خاتمے اور ہراسانی کے خلاف قوانین کے باعث 2025 تک یہ شرح 36 فیصد سے تجاوز کر گئی جو کہ شیڈول سے پہلے ہی حاصل کر لی گئی۔
اس شعبے میں سرمایہ کاری میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے اور 2024 میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر اخراجات 56 فیصد بڑھ گئے جبکہ اے آئی کمپنیوں نے 9.1 ارب ڈالر کی فنڈنگ حاصل کی۔ سعودی عرب اب گلوبل پارٹنرشپ آن اے آئی میں شامل ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ہے اور ریاض میں یونیسکو کے تحت بین الاقوامی ریسرچ سینٹر کی میزبانی کر رہا ہے۔

سعودی ڈیٹا اور اے آئی اتھارٹی نے گوگل کلاؤڈ کے ساتھ مل کر ’ایلیویٹ انیشیٹیو‘ کے تحت 25 ہزار خواتین کو تربیت دینے کا ہدف رکھا ہے جبکہ گزشتہ ایک سال میں 6 لاکھ 66 ہزار سے زائد خواتین کو ڈیٹا اور اے آئی کی تربیت دی جا چکی ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے 2025 اے آئی انڈیکس کے مطابق مملکت خواتین کو اے آئی میں بااختیار بنانے کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر آگئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس شعبے میں خواتین کی پیشہ ورانہ تعداد محض 22 فیصد ہے۔

WhatsApp
Get Alert