لورالائی: محکمہ آبپاشی کے فنڈز میں کروڑوں کے غبن کا کیس، اینٹی کرپشن نے مفرور سابق ایکس ای این گرفتار کر لیا

مرکزی ملزم فضل الرحمان روپوش تھا، ڈیمز کے فنڈز میں خورد برد کے ٹھوس شواہد موجود ہیں: ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کیس میں پہلے ہی 5 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، سرکاری وسائل لوٹنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا


لورالائی (ڈیلی قدرت کوئٹہ): ڈائریکٹوریٹ آف انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بلوچستان نے لورالائی میں محکمہ آبپاشی کے فنڈز میں کروڑوں روپے کی مبینہ بدعنوانی اور غبن کے کیس میں ایک اور بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مفرور ملزم، سابقہ ایکسین (XEN) فضل الرحمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ فضل الرحمان ایف آئی آر نمبر 2026/L/2 کے تحت درج مقدمے میں مرکزی ملزم کے طور پر نامزد تھے اور گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش تھے۔ اینٹی کرپشن کی ٹیم نے آج ایک کامیاب آپریشن کے دوران انہیں حراست میں لیا، جس کے بعد ان سے مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ بدعنوانی کے تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں۔یاد رہے کہ اس اہم کیس میں لورالائی میں ڈیمز کی تعمیر کے لیے مختص سرکاری فنڈز میں سنگین بے ضابطگیوں اور خورد برد کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ اس سے قبل اسی کیس میں سابقہ ایکسین جہانزیب خان کاکڑ، غلام مصطفی اور متعلقہ ٹھیکیداروں سمیت 5 دیگر ملزمان کو پہلے ہی گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انویسٹی گیشن اینٹی کرپشن لورالائی کے مطابق، وزیراعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کے ویژن کے تحت صوبے بھر سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور سرکاری وسائل لوٹنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert