تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کا مطالبات کے حق میں شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا الٹی میٹم , بلیلی ٹول پلازہ جلو گیر منتقل کیا جائے، مشترکہ پریس کانفرنس
ٹریفک اور موٹر وے پولیس بلاجواز تنگ کر کے بھتہ وصول کر رہی ہے، ہزار گنجی منڈی میں سیکیورٹی انتظامات بہتر بنائے جائیں

کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ ، آل پاکستان مزدا ٹرک گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین میر حاجی نواب مینگل نے کہا ہے کہ حکومت بلیلی چیک پوسٹ پر بنائے جانے والے ٹول پلازہ کوختم کرکے جلو گیر کے مقام پر بنائے اور کولپور سے 6 بجے مال بردار گاڑیوں کو آنے کی اجازت دی جائے اگر ہمارے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو احتجاج کرتے ہوئے شٹر ڈاؤن پہیہ جام ہڑتال ساتھ ساتھ ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے جس سے حالات کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دیگر ساتھیوں حضرت علی اچکزئی، یاسین مینگل، عمران ترین، سعد اللہ اچکزئی ، ہاشم کاکڑ، ظفر کاکڑ، محمد جان آغا درویش ، محمد اختر، خدائے نظر، میر عدنان لہڑی اور دیگر کے ہمراہ جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ عبدالرحیم کاکڑ نے کہا کہ تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ہم نے متعدد بار حکام بالا سے اس حوالے سے رابطہ کیا تھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی آج مجبور ہوکر میڈیا کے ذریعے وزیر اعلیٰ اور ارباب اختیار تک اپنی آواز پہنچانا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے بلیلی چیک پوسٹ پر ٹول پلازہ تعمیر کیا ہے جس میں شہر میں گاڑیوں کے داخل ہونے کے لئے صرف 2 راستے رکھے گئے جس کی وجہ سے اندرون صوبہ اور ملک سے آنے والی گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں رش کی وجہ سے شہریوں، تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو ذہنی کوفت اٹھانا پڑتی ہے اور مریضوں کو بروقت ہسپتال اور طلباء کو اپنے تعلیمی اداروں ، ملازمین کو اپنے دفتر میں پہنچنے میں شدید تکلیف اور دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مذکورہ ٹول پلازہ کو جلو گیر کے مقام پر منتقل کیاجائے وہاں پر جگہ کشادہ ہے اور گاڑیوں کے راستے زیادہ بنائے جاسکتے ہیں پہلے ہی عوام کو کسٹم اور ایف سی کی جانب سے رکاوٹوں کے باعث تکلیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ہزار گنجی منڈی میں سیکورٹی کیلئے موثر انتظامات کرتے ہوئے سرکی روڈ پر لوڈنگ گاڑیوں کو چوبیس گھنٹے روکنے کا سلسلہ بھی بند کیا جائے اور ان گاڑیوں کو مشرقی بائی پاس سے نکلنے کی اجازت دی جائے ایئر پورٹ اور جبل نور کے مقام پر ٹریفک پولیس اور موٹر وے پولیس ٹرانسپورٹروں اور ڈرائیوروں کو بلاجواز تنگ کرکے ان کے بھاری چالان کرنے کے ساتھ ان سے بھتہ وصول کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ہزار گنجی میں منظم پارکنگ ایریا، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی سہولت فراہم کی جائے اس کے علاوہ حکومت 6 بجے تک مال بردار گاڑیوں کولپور سے جانے کی اجازت دی جائے تاکہ مال سے لوڈ گاڑیاں بروقت اپنی منزل تک پہنچ سکیں گاڑیاں روکنے کی وجہ سے ان میں لوڈ کھانے پینے کا سامان ، سبزیاں، فروٹ خراب ہوتا ہے جس سے ہمیں نقصان اٹھانے کے ساتھ ساتھ بھاری کرایہ اور اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اور بلوچستان کی قومی شاہراہوں پر مال بردار گاڑیوں کو چلانے کی اجازت دی جائے تاکہ مال بروقت منڈیوں تک پہنچ سکے۔ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کیا گیا تو ہم احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم اپنے مطالبات کے حصول کیلئے پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن کے ساتھ ساتھ دیگر احتجاج کے راستے بھی اختیار کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں نواب خان مینگل نے کہا کہ افغانستان بارڈر کی بندش کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں کو 9 ارب اور حکومت کو ساڑھے چار ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا جس کی وجہ سے ادائیگی تا حال ٹرانسپورٹروں کو نہیں کی گئی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم مال بردار گاڑیوں کا کوئٹہ سے کراچی دیگر علاقوں میں آنے جانے پر فی پھیرہ لاکھوں روپے مختلف مدات میں ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
