سمگلنگ روکنا کسٹمز کا کام ہے، پولیس ناکوں پر گاڑیاں نہیں روکے گی، تمام تر توجہ دہشتگردی کے خاتمے پر ہوگی ‘ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی

‘ مارکیٹ رات 8 بجے ‘ ہوٹل اور شادی حال 10 بند کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے


کوئٹہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبے کی تاریخ میں کڑے مالیاتی، انتظامی اور معاشی فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے ایک جامع اور سخت بچت مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ کوئٹہ میں ایک اہم اور تفصیلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حکومت کے کفایت شعاری اقدامات کے نتیجے میں اب تک 1.4 ارب روپے کی خطیر رقم بچائی جا چکی ہے، اور امید ظاہر کی کہ یہ ہدف جلد ہی 2 ارب روپے تک پہنچ جائے گا۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے توانائی، زراعت، امن و امان اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے حکومتی وژن کو عوام کے سامنے تفصیل سے پیش کیا۔
وزیر اعلیٰ نے وی آئی پی کلچر کے خاتمے اور سرکاری خزانے پر بوجھ کم کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے زیر استعمال سرکاری گاڑیوں کی نیلامی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتی امور میں جدت اور شفافیت لانے کے لیے روایتی ایندھن پر چلنے والی گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہنگامی خدمات کے محکموں کے علاوہ دیگر تمام سرکاری دفاتر میں اب الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو ترجیح دی جائے گی تاکہ پیٹرول اور گاڑیوں کی مینٹیننس کی مد میں ضائع ہونے والے کروڑوں روپے بچائے جا سکیں۔ اس کے علاوہ تمام سرکاری دفاتر کو تیزی سے سولر پینلز پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ بجلی کے بلوں کا بوجھ کم کیا جا سکے۔
ملک اور صوبے کو درپیش توانائی کے سنگین بحران کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے ایک انتہائی اہم اور مشکل فیصلے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بچت کو یقینی بنانے کے لیے اب صوبے بھر میں تمام کاروباری مراکز اور مارکیٹیں رات 8 بجے سختی سے بند کر دی جائیں گی۔ اسی طرح ریسٹورنٹس اور شادی ہالز کے لیے رات 10 بجے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ البتہ عوام کی سہولت کی خاطر میڈیکل اسٹورز، ہسپتالوں اور دیگر ہنگامی نوعیت کی خدمات کو اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ تاجر برادری کے لیے یہ فیصلہ کڑا ہو سکتا ہے، تاہم قومی اور صوبائی مفاد میں اس پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔

ایک طویل عرصے سے عوام اور تاجروں کی جانب سے آنے والی شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے مختلف محکموں کے دائرہ کار کو واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ سرحدوں کی حفاظت اور اسمگلنگ کی روک تھام کسٹم کا بنیادی کام ہے، پولیس کا نہیں۔ اب پولیس اہلکار شاہراہوں پر موجود چیک پوسٹوں پر اسمگلنگ کی آڑ میں گاڑیوں کو نہیں روکیں گے۔ پولیس کی تمام تر توجہ، وسائل اور توانائیاں اب صرف اور صرف صوبے سے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، سنگین جرائم کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر مرکوز رہیں گی۔
صوبے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے زرعی شعبے کے لیے ایک زبردست خوشخبری سناتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ صوبائی کابینہ نے کسان کارڈ منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس انقلابی اقدام کے تحت صوبے کے چھوٹے کاشتکاروں کو 15,000 روپے فی ایکڑ کے حساب سے نقد سبسڈی فراہم کی جائے گی۔ یہ سہولت زیادہ سے زیادہ ساڑھے 12 ایکڑ اراضی تک کے مالکان کے لیے قابلِ اطلاق ہوگی۔ تاہم انہوں نے شرط عائد کی کہ اس سبسڈی کے حصول کے لیے کسانوں کے پاس اپنی زمین کی ملکیت کا قانونی ثبوت (فرد) کا ہونا لازمی ہوگا تاکہ حق داروں تک ان کا حق پوری شفافیت کے ساتھ پہنچ سکے۔
پریس کانفرنس کے دوران بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے 3 ماہ کا عبوری بجٹ پیش کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ صوبے میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل رابطہ ہے اور وفاق نے مالی معاونت کی مکمل یقین دہانی کرائی ہے۔
کرپشن کے حوالے سے اپنی حکومت کی پالیسی کو دو ٹوک قرار دیتے ہوئے انہوں نے واضح انتباہ جاری کیا کہ سرکاری محکموں میں موجود کالی بھیڑوں اور خاص طور پر اسمگلنگ جیسے جرائم میں سہولت کاری کرنے والے اہلکاروں کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کو اب صرف ایماندار، فرض شناس اور محنتی افسران کی ضرورت ہے، اور کرپٹ عناصر کے لیے ان کی حکومت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ملکی وعلاقائی صورتحال کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے خطے کی سیاست، بالخصوص ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی ممالک کے حوالے سے پاکستان کے متوازن اور کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی انتہائی مثبت، تعمیری اور امن پر مبنی ہے۔ ملکی عسکری و سیاسی قیادت خطے میں امن، استحکام اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے اپنی سنجیدہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جس کے مثبت اثرات جلد ہی پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

WhatsApp
Get Alert