خضدار ماربل سٹی میں فنڈز کا ضیاع ثابت ہونے پر کارروائی ہوگی، نوجوانوں کو زمباد کے بجائے باعزت روزگار دے رہے ہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ خضدار ماربل سٹی منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ذریعے کر کے فنڈز کا ضیاع ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائیگی ،ہم نوجوانوں کو زمباد کے بجائے باعزت روزگار قانونی تجارت کی جانب مائل کر رہے ہیں ، دوسری جانب بلوچستان اسمبلی نے بلوچستان مائنز اینڈ سیفٹی اور بلوچستان وٹنس پروٹیکشن کے قانون کے مسودات متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردئیے ۔ منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری کی جانب سے اٹھا ئے گئے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ خضدار میں ماربل سٹی کی تعمیر گزشتہ حکومت کی اچھی سوچ کا نتیجہ تھی اس کے پہلے مرحلے میں زمین کی خریداری شامل تھی جس کے بعد نجی شعبے نے وہاں فیکٹریاں لگانی تھیں کاغذوں میں تو پیسے خرچ ہوئے ہیں اگر عملی طور پر اس پر کچھ نہیں ہوا تو یہ تشویشناک با ت ہے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے ذریعے اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اگر پیسوں کا ضیاع ہوا ہے اس پر کاروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہاں پہلے کام شروع ہوتا ہے بعد میں فیزیبلٹی بنتی ہے بلوچستان کی پی ایس ڈی پی میں اتنے معاملات ہیں کہ کوئی اس پر پی ایچ ڈی کا تھسیز کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے مستقبل کے حوالے سے اپوزیشن لیڈر سے ملونگا ۔ وزیراعلیٰ نے انٹر پرائز ڈوپلمنٹ پروگرام کو بی آر ایس پی کے ذریعے سرانجام دینے اور خضدار کو نظر انداز کرنے سے متعلق اپوزیشن لیڈر کے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ بلوچستان حکومت کا اہم منصوبہ تھا جس میں ایران کی سرحد سے منسلک علاقوں کے نوجوانوں کو غیر روایتی اور غیر قانونی تجارت سے نکال کر قانونی تجارت کی جانب مائل کرنا تھا اس منصوبے میں کا انتہائی کم حصہ بی آر ایس پی کو ملے گا جبکہ اس کے بدلے وہ نہ صرف نوجوانوں کو تربیت فراہم کریں گے بلکہ انہیں کاروبار کھڑا کرنے میں معاونت فراہم اور پانچ سال تک نگرانی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو زمباد کے بجائے باعزت روزگار دے رہے ہیں اس منصوبے کو انتہائی باریک بینی سے کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری صنعت و حرفت اس حوالے سے تفصیل فراہم کریں گے۔ وزیر اعلیٰ نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان حکومت نے مائنز اینڈ منرلز بل پر اپوزیشن سے تجاویز اور ڈرافٹ مانگے تھے تاہم 6ماہ سے ہم انتظار میں ہیں اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر آگا ہ کریں جس پر اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے ایوان کو اس حوالے سے اپوزیشن کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ و معدنیات میر شعیب نوشیروانی نے بلوچستان مائنز اینڈ سیفٹی کا مسودہ قانون 2026اور بلوچستان وٹنس پروٹیکشن کا ترمیمی مسودہ قانون 2026ایوان میں پیش کیے جنہیں متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert