کوئٹہ بائی پاس دھرنا ختم، وزیرداخلہ میر ضیا اللہ لانگو کی کامیاب مذاکرات کے بعد ٹریفک بحال

ہزار گنجی واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفتاری جلد ہوگی، امن خراب کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے ،وزیرداخلہ بلوچستان


کوئٹہ (قدرت روزنامہ)کوئٹہ کے بائی پاس پر جاری احتجاجی دھرنا بالآخر کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا، جہاں وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو خود موقع پر پہنچے اور دھرنے کے شرکا سے براہ راست بات چیت کی۔ مذاکرات کی کامیابی کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کرتے ہوئے سڑک کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا، جس سے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔تفصیلات کے مطابق کوئٹہ بائی پاس پر ہزار گنجی واقعہ کے خلاف احتجاجی دھرنا کئی گھنٹوں سے جاری تھا، جس کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہو رہی تھی اور شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا تھا۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے خود دھرنے میں شرکت کی اور مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی میر صمد گورگیج، معاون برائے محکمہ داخلہ بابر یوسفزئی سمیت دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے شرکا کے تحفظات سنے اور انہیں حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، جس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوا وزیرداخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وفد کا دھرنے میں آنے کا مقصد مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور ان کے مسائل کو سننا تھا۔

انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ ہزار گنجی واقعہ میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کیا جائے گا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کے لیے منظم سازشیں کی جا رہی ہیں، تاہم حکومت اور سیکیورٹی ادارے ایسی تمام کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ کاروبار متاثر ہو اور سڑکیں بند ہوں، لیکن حکومت کسی صورت ایسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دے گی۔وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ ہزار گنجی واقعہ میں ملوث افراد قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے اور ریاست کی رٹ ہر صورت قائم رکھی جائے گی۔ انہوں نے دھرنے کے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون سے مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوا اور ٹریفک کی بحالی ممکن ہوئی یو این اے کے مطابق دوسری جانب دھرنے کے شرکا نے بھی حکومتی وفد کی آمد اور یقین دہانیوں کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا۔ دھرنا ختم ہونے کے بعد بائی پاس روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جس کے بعد معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہو گئے۔

WhatsApp
Get Alert