امریکہ ، ایران کے ساتھ 20 ارب ڈالرز کے بدلے یورینیم معاہدے پر غور کر رہا ہے، امریکی میڈیا ویب سائٹ کا دعویٰ

واشنگٹن (قدرت روزنامہ)امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 3 صفحات پر مشتمل ایک منصوبے پر مذاکرات جاری ہیں۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ منصوبے میں ایک اہم تجویز یہ ہے کہ امریکہ ایران کے منجمد 20 ارب ڈالرز جاری کرے گا جس کے بدلے ایران اپنا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ترک کردے گا۔

ویب سائٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی ایک بڑی ترجیح یہ ہے کہ ایران اپنی زیرِ زمین جوہری تنصیبات میں موجود تقریباً 2 ہزار کلوگرام افزودہ یورینیم تک رسائی حاصل نہ کر سکے، خصوصاً وہ 450 کلوگرام یورینیم جو 60 فیصد تک افزودہ ہے۔ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں امریکہ ایران کو 6 ارب ڈالرز جاری کرنے پر تیار تھا تاکہ ایران خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء خرید سکے تاہم ایران نے 27 ارب ڈالر کا مطالبہ کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق تازہ ترین بات چیت میں 20 ارب ڈالرز کی رقم زیر غور ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ یہ امریکی تجویز ہے جبکہ دوسرے امریکی عہدیدار نے ’’رقم کے بدلے یورینیم‘‘ کی تجویز کو ’’کئی زیر بحث نکات میں سے ایک‘‘ قرار دیا۔

ویب سائٹ کے مطابق اسی دوران امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنا تمام جوہری مواد امریکہ منتقل کرے جبکہ ایران نے صرف اسے اپنے ملک میں ہی ’’ڈاؤن بلینڈ‘‘ (کم افزودہ) کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔ایگزیوس کا بتانا ہے کہ ایک زیر غور تجویز یہ بھی ہے کہ زیادہ افزودہ یورینیم کسی تیسرے ملک منتقل کیا جائے جبکہ باقی یورینیم کو ایران میں بین الاقوامی نگرانی کے تحت کم افزودہ کیا جائے۔ویب سائٹ کے مطابق اس وقت زیرِ غور 3 صفحات پر مشتمل مفاہمتی یادداشت میں ایران کی جانب سے جوہری افزودگی پر ’’رضاکارانہ‘‘ پابندی بھی شامل ہے۔

ویب سائٹ کا بتانا ہے کہ امریکہ نے مذاکرات کے آخری دور میں ایران سے جوہری افزودگی پر 20 سالہ پابندی کا مطالبہ کیا تھا جبکہ ایران نے 5 سال کی مدت تجویز کی اور ثالث اب بھی اس حوالے سے اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کو طبی مقاصد کے لیے نیوکلیئر ریسرچ ری ایکٹرز رکھنے کی اجازت ہوگی تاہم وہ اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ اس کی تمام جوہری تنصیبات زمین کے اوپر ہوں گی جبکہ موجودہ زیرِ زمین تنصیبات غیر فعال رہیں گی۔

اس معاہدے میں آبنائے ہرمز سے متعلق امور بھی شامل ہیں، تاہم ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔یہ واضح نہیں کہ اس مفاہمتی یادداشت میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادی گروپوں کی حمایت کا ذکر شامل ہے یا نہیں۔

WhatsApp
Get Alert