کوئٹہ میں مبینہ خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری، دہشتگرد نیٹ ورک کے طریقہ کار سے متعلق اہم انکشافات


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)سیکیورٹی حکام نے ایک اہم پریس کانفرنس میں مبینہ خاتون خودکش بمبار کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو منظم انداز میں استعمال کر رہی ہیں، جبکہ اس مقصد کے لیے افغانستان کی سرزمین کے استعمال سمیت مختلف پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
پریس بریفنگ میں حکام نے بتایا کہ گرفتار خاتون کے کیس سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین کو سماجی، نفسیاتی اور بعض اوقات جنسی استحصال کے ذریعے دہشتگردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں خواتین کو نہ صرف ذہنی طور پر متاثر کیا جاتا ہے بلکہ انہیں مخصوص مقاصد کے لیے تیار بھی کیا جاتا ہے۔
حکام نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ایک ملزم نے اپنی اہلیہ کے نام اور شناخت کو دانستہ طور پر دہشتگرد تنظیموں کے ساتھ رابطوں کے لیے استعمال کیا۔ بریفنگ کے مطابق اسی گھر میں ایک خاتون خودکش حملہ آور نے قیام بھی کیا، جسے بعد ازاں تربیت کے لیے افغانستان بھیجا گیا۔

پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ اس طرح کے واقعات سے یہ تاثر رد ہوتا ہے کہ خواتین صرف جبری طور پر لاپتا ہوتی ہیں، بلکہ بعض کیسز میں وہ خود بھی گھروں سے باہر نکل کر ایسے نیٹ ورکس کا حصہ بنتی ہیں، جسے بعد میں ریاست کے خلاف بیانیہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق اس پورے نیٹ ورک میں مختلف تنظیموں کا کردار سامنے آیا ہے، جہاں ایک جانب مبینہ طور پر ذہنی پراپیگنڈا اور انتہاپسندی کی طرف مائل کرنے کا عمل کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب بھرتی، تربیت اور کارروائی کے مراحل الگ گروپس کے ذریعے مکمل کیے جاتے ہیں۔
بریفنگ میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی خاتون حملہ آور کامیاب ہو جائے تو اسے ایک علامت بنا کر مزید بھرتی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ ناکامی یا گرفتاری کی صورت میں متعلقہ تنظیمیں اس سے لاتعلقی اختیار کر لیتی ہیں۔
حکام نے زور دیا کہ خواتین کا اس طرح استعمال نہ صرف بلوچ ثقافت کے خلاف ہے بلکہ مذہبی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے ایسے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

WhatsApp
Get Alert