مودی، شیخ رشید کے نقش قدم پر، سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

بنگال (قدرت روزنامہ)مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جھارگرام میں مقامی اسٹریٹ فوڈ ’جھال مری‘ سے لطف اندوز ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مودی ایک دکاندار کے پاس جا کر جھال مری طلب کرتے ہوئے اس کی قیمت پوچھتے ہیں۔ دکاندار نے بتایا کہ اس کی قیمت 10 سے 20 روپے کے درمیان ہے۔ دکاندار نے ابتدا میں رقم لینے سے گریز کیا لیکن بعد میں اصرار پر اس نے رقم لے لی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کے دوران مودی کو ‘چائے والا’ دکھانے والی میم امریکی اخبار میں شائع، سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل
جھال مری کی تیاری کے دوران دکاندار نے سوال کیا کہ آیا وہ پیاز کھاتے ہیں جس پر وزیرِ اعظم نے جواب دیا، ’ہاں، پیاز کھاتا ہوں بس لوگوں کا دماغ نہیں کھاتا‘۔ ان کا یہ جملہ سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
صارفین اس پر مختلف تبصرے کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ مودی نے یہ سب صرف توجہ حاصل کرنے کے لیے کیا کیونکہ وہ اپنی مقبولیت کھو رہے ہیں۔ چند ناقدین نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فوڈ وی لاگنگ شروع کر دی ہے اور اسے وائرل ہونے کی کوشش قرار دیا۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ مودی نے فوڈ وی لاگنگ شروع کر دی ہے کیونکہ وہ 90 دن سے وائرل نہیں ہوئے۔
ایک پاکستانی سوشل میڈیا صارف نے مودی کو شیخ رشید سے تشبیہہ دیتے ہوئے دلچسپ انداز میں لکھا کہ مودی، شیخ رشید کے نقش قدم پر۔
رچیتا نامی صارف نے کہا کہ مودی نے پہلے ڈیجیٹل ادائیگی پر زور دیا اور اب خود کیش دے رہے ہیں، انہوں نے مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے خود کو خود ہی ایکسپوز کر دیا ہے۔
راجہ نامی صارف نے تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ناکام و مایوس لوگوں کی یہی نشانی ہوتی ہے جب پوری دنیا پاکستان میں موجود ہے اور موصوف اپنے ہی علاقوں میں ٹک ٹاک بنوانے میں مصروف ہیں۔ دعوے تھے بڑی معیشت اور خطے میں مقبول ترین ملک ہونے کے جبکہ اب تو خبروں میں جگہ نہی مل رہی۔
گوہر بٹ نے کہا کہ مودی کس قدر کنجوس ہے 10 روپے کی چیز لی اور صرف 10 روپے ہی ادا کیے، اس غریب آدمی کو زیادہ پیسے دیتا تو وہ ساری زندگی دعائیں دیتا ۔
