سعودی عرب کے تحفظات، پاکستان نے سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالرز کے جنگی طیاروں اور ہتھیاروں کی فروخت موخر کر دی

لاہور (قدرت روزنامہ)سعودی عرب کے تحفظات، پاکستان نے سوڈان کو ڈیڑھ ارب ڈالرز کے جنگی طیاروں اور ہتھیاروں کی فروخت موخر کر دی۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کے اعتراض کے بعد سوڈان کو 1.5 ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کا معاہدہ روک دیا ہے۔ دو پاکستانی سیکورٹی ذرائع اور ایک سفارتی ذریعے کے مطابق، پاکستان نے سوڈان کو ہتھیاروں اور طیاروں کی فراہمی کا یہ معاہدہ سعودی عرب کی جانب سے اسے ختم کرنے کی درخواست اور خریداری کے لیے فنڈز فراہم نہ کرنے کے اعلان کے بعد معطل کیا ہے۔
سوڈانی فوج اور پیرا ملٹری ‘ریپڈ سپورٹ فورسز’ کے درمیان جاری تنازع نے گزشتہ تین سالوں سے دنیا کے بدترین انسانی بحران کو جنم دے رکھا ہے، جو اب غیر ملکی مفادات کا مرکز بن چکا ہے اور اس سے بحیرہ احمر کے اس اہم سونا پیدا کرنے والے ملک کے ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
رائٹرز نے پہلی بار جنوری میں رپورٹ کیا تھا کہ یہ معاہدہ آخری مراحل میں ہے اور سعودی عرب نے اس میں ثالث کا کردار ادا کیا تھا، تاہم اس وقت ریاض کی جانب سے کسی مالی معاونت کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ ان کئی دفاعی فروخت کے سودوں میں شامل تھا جن پر پاکستانی فوج بات چیت کر رہی تھی، خاص طور پر گزشتہ سال مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپوں کے بعد جب پاکستانی طیاروں اور ہتھیاروں کے نظام کو شہرت ملی۔ سعودی عرب پاکستان کے قریبی اتحادیوں میں سے ہے اور اسلام آباد کی کمزور معیشت کے لیے اہم قرضوں اور مالی امداد کا ذریعہ رہا ہے۔ گزشتہ سال ایک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید گہرے ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی بھی ایک ملک پر جارحیت کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
ایک سیکورٹی ذریعے کا کہنا ہے کہ “سعودی عرب نے اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کو یہ معاہدہ ختم کر دینا چاہیے کیونکہ انہوں نے اس کی مالی معاونت کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔” سعودی حکومتی میڈیا آفس، سوڈانی مسلح افواج اور پاکستانی فوج نے رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ پاکستانی فوج اور فضائیہ نے پہلے کبھی سرکاری طور پر اس معاہدے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ کچھ مغربی ممالک نے ریاض کو مشورہ دیا تھا کہ وہ افریقہ میں جاری پراکسی جنگوں سے دور رہے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے کے تنازع زدہ ممالک بشمول سوڈان میں مخالف فریقین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کی بات کرتے ہیں، لیکن سعودی عرب سوڈانی فوج کی حمایت کرتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات پر آر ایس ایف کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام ہے، جس کی وہ سرکاری طور پر تردید کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مارچ میں ریاض میں سوڈانی فوجی رہنماؤں اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے نتیجے میں اس ڈیل کی سعودی فنڈنگ ختم کر دی گئی۔ دوسرے سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ 4 ارب ڈالر کا ایک اور معاہدہ، جس کی رپورٹ دسمبر میں رائٹرز نے دی تھی، وہ بھی خطرے میں ہے کیونکہ سعودی حکام دونوں ممالک کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہے ہیں۔
