پنجاب میں پانچ برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد خواتین اغوا ہونے کا انکشاف
77 فیصد مقدمات میں مغوی خواتین نے عدالت میں پیش ہوکر بیان دیا کہ وہ شادی کے لیے اپنی مرضی سے گئی تھیں، رپورٹ

لاہور (قدرت روزنامہ)پنجاب میں خواتین کے اغوا کے واقعات سے متعلق ہوشربا تفصیلات سامنے آگئیں۔
آئی جی پنجاب نے خواتین کے اغوا سے متعلق مقدمات کی تفصیلات لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروا دیں، رپورٹ کے مطابق پنجاب میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران خواتین کے اغوا سے متعلق ایک لاکھ 5 ہزار 244 کیسز رجسٹرڈ ہوئے، مقدمات کے مطابق یکم جنوری سے 2021 سے دسمبر 2025 کے دوران ایک لاکھ 5 ہزار 571 خواتین اغوا ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق 70 ہزار 773 کیسز سیکشن 365 کے تحت درج ہوئے، 1 لاکھ 5 ہزار 244 کیسز میں سے 80 ہزار 767 کیسز کینسل ہوگئے، 77 فیصد مقدمات میں مغوی خواتین نے عدالت پیش ہو کر بیان دیا کہ وہ اغوا نہیں ہوئیں بلکہ شادی کے لیے اپنی مرضی سے گئی تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت خواتین کے اغوا سے متعلق 3 ہزار864 کیسز زیر تفتیش ہیں، 612 خواتین کو بازیاب کرواکر رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی، اس وقت 3 ہزار 258 خواتین تاحال بازیاب نہیں کروائی جاسکیں، 1432 کیسز میں شکایت کنندہ نے ملزمان کو نامزد کیا جس کی تفتیش جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت خواتین کے اغوا سے متعلق 1820 کیسز میں چیلنجز کا سامنا ہے جس کے لیے کام کر رہے ہیں، ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کو تفتشی افسران کی کاررکردگی جانچنے کی ہدایت کی ہے، کسی تفتیشی کی نااہلی اور نالائقی ثابت ہونے پر سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
