بلوچوں کو بے سود جنگ میں دھکیلا گیا، بندوق کے زور پر آزادی کا خواب ناممکن ہے‘ہر ضلع کے لیے 3 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے دیئے جائیں گے‘، سرفراز بگٹی

گوادر میں پانی کا بحران مستقل حل، ٹینکر مافیا اور کرپشن کا خاتمہ اولین ترجیح ہے جون کے بعد تمام بھرتیاں اے آئی کے ذریعے ہوں گی، نوجوان سوشل میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈے سے بچیں ،وزیر اعلیٰ بلوچستان


گوادر (قدرت روزنامہ)وزیرِ اعلی بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے بلوچستان کے ہر ضلع میں تین ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا منصوبہ مکمل کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسی محض ووٹ اور سیاست تک محدود نہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کا مستقبل سنوارنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ گوادر پورٹ اتھارٹی میں منعقدہ عوامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قوم پرستانہ سیاست بلوچستان کو بربادی کی طرف لے گئی ہے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ بلوچوں کو ایک ایسی ناہموار اور بے سود جنگ میں دھکیلا گیا ہیجس سے نہ کوئی فائدہ ہوگا اور نہ ہی تقدیر بدلے گی۔ جرگے میں کور کمانڈر بلوچستان راحت نسیم، گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل، ایم این اے حاجی ملک شاہ گورگیج، ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان، ڈی جی پاکستان کوسٹ گارڈ عارف ربانی، جی او سی گوادر جنرل حبیب نواز، اور سیاسی، عسکری، تعلیمی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیرِ اعلی نے کہا کہ بلوچستان کا سرمائی دارالحکومت گوادر ہمیشہ سے ان کی ترجیح رہا ہیانہوں نے کہا میں 1980 سے گوادر آ رہا ہوں ماضی اور موجودہ گوادر میں زمین و آسمان کا فرق ہے یہاں کے تعلیم یافتہ اور محب وطن لوگ قابلِ تحسین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے بلوچستان میں بند اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کی مہم شروع کی تو سب سے زیادہ اسکول ضلع گوادر میں کھلے گئیاس کے علاوہ اساتذہ کی بھرتیاں بھی مکمل کر لی گئی ہیں۔ وزیرِ اعلی نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں اپنے عوام سے جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ مجھے دوبارہ ان کے پاس جانا ہے۔ گوادر میں پانی کا بحران ہماری حکومت نے مستقل حل کر دیا ماضی میں اس بحران کے نام پر میگا کرپشن ہوئی، ٹینکر مافیا نے لوگوں کو کروڑ پتی بنا دیاجبکہ ہم نے کرپشن کو روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گوادر پورٹ 2002 میں آپریشنل ہوا تھااگر اس خطے میں دہشت گردی کی کارروائیاں نہ ہوتیں تو آج صورتحال کچھ اور ہوتی۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھاہماری حکومت نے ہر ضلع میں ترقی کے لیے تین ارب روپے مختص کر دیے ہیں اگر ہم دیانتداری سے کام کریں اور چیزوں کو صحیح سمت دیں تو آنے والے وقتوں میں بلوچستان کا نقشہ بدل جائے گا۔ انہوں نے شدید الفاظ میں کہا بدقسمتی سے قوم پرستی کے نام پر جو سیاست ہوئی اس نے بلوچستان کو تباہ کر دیا یہ قوم پرست دراصل نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں تبدیلی آئے اور ترقی ہوکیونکہ محرومی کے نام پر ہی یہ پارٹیاں اپنی سیاست چلا رہی ہیں یہی لوگ اصل جنگی منافع خور ہیں۔انہوں نے افغانستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہاں ایک شخص موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بلوچستان میں آزادی کی جنگ چھیڑنے کا اعلان کرتا ہے اور ناکام ہو جاتا ہے ہماری سیکیورٹی فورسز تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیتی ہیں نوشکی میں صرف اس لیے تین دن صورتحال خراب رہی کہ فورسز نے نارمل طریقے سے آپریشن کیا تاکہ عام عوام کو نقصان نہ پہنچے ورنہ یہ چند دہشت گرد ایک مارٹر گولے سے ختم ہو سکتے تھے۔ وزیرِ اعلی نے چیک پوسٹس پر ہونے والی چیکنگ کے حوالے سے کہا بلوچ عوام اس بات پر ناراض ہیں کہ سیکیورٹی فورسز ان سے پوچھتی ہے کہ کہاں سے آ رہے ہو اور کہاں جا رہے ہو اور وہ اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں سوال یہ ہے کہ انگریز کے دور میں یہ عزت کہاں تھی؟ آج چیک پوسٹس پر چیکنگ کے نام پر انہیں عزت یاد آتی ہے عوام کو سیکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھاجو دہشت گرد عام عوام کے بھیس میں گوادر آتے ہیں اگر انہیں چیک پوسٹ پر روک کر پوچھ گچھ کی جائے تو شور مچتا ہے لیکن جب انہی دہشت گردوں نے گوادر میں معصوم لوگوں کو قتل کیا تو سب نے کہا کہ اتنے سیکیورٹی انتظامات کے باوجود یہ دہشت گرد کیسے داخل ہوئے؟ انہوں نے خضدار سے تعلق رکھنے والے ایک پورے خاندان کے قتل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے پر گوادر کے لوگوں نے کوئی ردعمل نہیں دیا، نہ مذمت کی جتنا نقصان ان دہشت گردوں نے بلوچ قوم کو پہنچایا، اتنا کسی اور نے نہیں پہنچایا۔کردستان کی تحریک سے متاثر ہو کر بلوچستان میں شروع کی گئی جنگ کے بارے میں انہوں نے کہا میں بلوچ قوم کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہ ایک بے سود جنگ ہے، اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس سے ہرگز کوئی آزادی حاصل نہیں ہوگی اس لاحاصل جنگ میں صرف بلوچ عوام مر رہے ہیں۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ کیا بلوچ بندوق کے زور پر آزادی حاصل کر سکتی ہے؟ یقینا ناممکن ہے ہمارے پاس ایک منظم فوج اور ریاست موجود ہے یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پاکستان ٹوٹنے کے لیے نہیں بنا ہے پانچ سو لوگوں کا جتھہ پاکستان نہیں توڑ سکتایہ لوگ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا ہماری قوم کی نفسیات یہ ہے کہ وہ ناچتے بندر کو دیکھ کر اس کی ویڈیو بنا لیتے ہیں اسی طرح لوگ دہشت گردوں کو دیکھ کر ان کی ویڈیو بنا کر پھیلاتے ہیں لیکن میں واضح کر دوں کہ یہ دہشت گرد بلوچستان کی ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کر سکتے۔ وزیرِ اعلی نے لاپتہ افراد کے مسئلے پر کہا ہماری حکومت نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے پاکستان کی سیاسی قیادت نے بلوچستان کو ترقی دی ہے۔انہوں نے گوادر کا دوسرے اضلاع سے موازنہ کرتے ہوئے کہا گوادر کے لوگ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے لوگوں سے سو سال آگے ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں تعلیم بعد میں آئی، جبکہ گوادر کے لوگ شروع سے تعلیم یافتہ رہے ہیں۔ آپ نے پہلے ترقی کی اور ہمارے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے مشران گوادر کے ایک دکاندار سے بھی کم فہم ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا ہماری حکومت نے 70 ہزار اسکالرشپ دی ہیں بلوچستان کے 80 فیصد طلبہ اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہم نے کرپشن مکمل ختم نہیں کی، لیکن ضرور کم کی ہے۔ ماضی میں بلوچستان میں سالانہ ایک ارب روپے اخبارات پڑھنے کے لیے خرچ کیے جاتے تھے، جو ہم نے کم کر دیے۔انہوں نے آگاہ کیا کہ جون کے بعد تمام پوسٹیں اے آئی(مصنوعی ذہانت)کے ذریعے بھری جائیں گی۔ گوادر کے کسی بھی امیدوار کو انٹرویو کے لیے کوئٹہ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ جیونی کو میرانی ڈیم سے پانی فراہم کیا جائے گا۔

WhatsApp
Get Alert