امریکا نے ایران کیخلاف جنگ میں اربوں ڈالر مالیت کے ہزاروں میزائل داغے، امریکی اخبار

واشنگٹن(قدرت روزنامہ)امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری کے آخر میں شروع ہونے والی ایران جنگ کے بعد امریکا نے اپنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اسٹیلتھ کروز میزائلوں سمیت بڑی تعداد میں مہنگے ہتھیار استعمال کیے جس سے اس کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے جنگ کے دوران تقریباً 1100جے اے ایس ایس ایم-ای آر (JASSM-ER) کروز میزائل استعمال کیے جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 11لاکھ ڈالر ہے اور اب امریکی میزائل ذخیرے میں ان کی تعدد صرف 1500ہے۔
امریکی فوج نے 1000سے زائد ٹوماہاک کروز میزائل بھی داغے جن کی فی میزائل قیمت تقریباً 36لاکھ ڈالر ہے۔ امریکا سالانہ بنیاد پر تقریباً 100ٹوماہاک کروز کی خریداری کرتا ہے۔
پینٹاگون کے مطابق جنگ میں 1200سے زائد پیٹریاٹ انٹرسیپٹر میزائل استعمال کیے گئے جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً 40لاکھ ڈالر ہے۔ امریکا نے 2025میں مجموعی طور پر تقریباً 600پیٹریاٹ میزائل تیار کیے تھے۔
اسی طرح امریکا نے 1000سے زائد پریسیژن اسٹرائیک اور اے ٹی اے سی ایم ایس (ATACMS)زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل بھی استعمال کیے جس سے ان کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے ہیں۔اندازوں کے مطابق جنگ کے پہلے 2دنوں میں ہی امریکی فوج نے تقریباً 5.6ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار استعمال کیے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر اب تک ایران جنگ کی لاگت 28سے 35ارب ڈالر کے درمیان پہنچ چکی ہے جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ تقریباً ایک ارب ڈالر یومیہ بنتی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کے مطابق 38دن کی جنگ کے دوران 13ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاہم حکام کے مطابق اس تعداد سے حملوں میں استعمال ہونے والے بموں اور میزائلوں کی اصل مقدار ظاہر نہیں ہوتی کیونکہ ایک ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے اکثر کئی بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ ایران جنگ نے امریکی فوج کے عالمی سطح پر موجود اسلحہ کے ذخائر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے جس کے باعث پینٹاگون کو ایشیا اور یورپ سے ہتھیار مشرق وسطی منتقل کرنا پڑے۔حکام کے مطابق اس صورتحال نے خاص طور پر چین اور روس جیسے ممکنہ حریفوں کے مقابلے میں امریکا کی عسکری تیاریوں کو متاثر کیا ہے۔
