چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ کی بازاری زبان اور سیٹلمنٹ میں ججز کے رشتہ داروں کی مبینہ مداخلت، انصاف کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں ‘ منیر احمد کاکڑ ایڈوکیٹ
اگر بااثر شخصیات کے رشتہ دار زمینوں کی بندربانٹ میں ملوث پائے گئے تو پورا نظام متنازع ہو جائے گا، وکلاء کی تضحیک کسی صورت قبول نہیں، ممبر پاکستان بار کونسل منیر احمد خان کاکڑ کا سخت ردعمل

کوئٹہ (ڈیلی قدرت)پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ نے کہا ہے کہ چیف جسٹس کے بازاری زبان کے استعمال اور سیٹلمنٹ کے عمل میں ججز کے رشتہ داروں کی مبینہ مداخلت کے الزامات نے بلوچستان میں انصاف کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں ایک شاعر کے اشعار بھی نقل کیے: دھمکیوں سے تو محبت نہیں کروا سکتے تم ڈرا سکتے ہو عزت نہیں کروا سکتے چاند کا نام کتابوں میں اندھیرا رکھ دو پھر بھی تبدیل حقیقت نہیں کروا سکتے تم ہتھیلی پہ میرا سر تو اٹھا سکتے ہو ہاں مگر ہاتھ پہ بیعت نہیں کروا سکتے اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے اعلی عدلیہ کے ججز کے رشتہ داروں کی سٹلمنٹ کے عمل میں مبینہ مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بااثر شخصیات کے رشتہ دار اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے زمینوں کی بندربانٹ میں ملوث پائے گئے تو یہ نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہوگی بلکہ پورے نظامِ انصاف کو متنازع بنا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے ججز کو چاہیے کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں یا بطور ادارہ اس حوالے سے جامع ردعمل دیں، جیسا کہ ماتحت عدلیہ کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے معاملے پر سامنے آیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک طرف بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ماتحت عدلیہ میں ٹرانسفر و پوسٹنگ کے لیے روابط کے استعمال کے خلاف احکامات جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ دوسری جانب اعلی عدلیہ کے ججز کے رشتہ داروں کی جانب سے سیٹلمنٹ کے عمل میں مداخلت کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جو کھلے تضاد کی عکاسی کرتی ہیں اور عدلیہ کی ساکھ کو متاثر کر رہی ہیں۔انہوں نے عدالتی کارروائی کے دوران نامناسب اور بازاری زبان کے استعمال پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک آئینی عہدے پر فائز شخصیت کی جانب سے ایسی زبان کا استعمال نہ صرف افسوسناک بلکہ ادارے کے وقار کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس طرزِ عمل سے اداروں کی اصلاح ممکن ہے یا اس سے عدلیہ کا احترام مزید مجروح ہوگا؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام اور وکلا کا اعتماد بری طرح متاثر ہوگا اور عدلیہ خود تنقید کی زد میں رہے گی۔منیر احمد خان کاکڑ نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ میں وکلا، بالخصوص بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین اور دیگر معزز وکلا کے ساتھ عدالتی زبان کے بجائے بازاری زبان کا استعمال انتہائی افسوسناک اور باعثِ تشویش ہے، جو نہ صرف عدالت کے وقار کے منافی ہے بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سوالیہ نشان بھی کھڑا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتیں انصاف، شائستگی اور تحمل کا مظہر ہوتی ہیں، لیکن اگر عدالتی ماحول میں غیر مہذب زبان استعمال کی جائے تو اس کے منفی اثرات وکلا اور سائلین دونوں پر پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں وکلا برادری میں اشتعال پیدا ہونا فطری امر ہے، اور اگر خدانخواستہ وکلا آپس میں دست و گریباں ہوتے ہیں تو اس کی تمام تر ذمہ داری چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وکلا کی تضحیک، ہراسانی اور پیشہ ورانہ وقار کو مجروح کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور وکلا ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کے درمیان باہمی احترام ہی انصاف کی بنیاد ہے، اگر یہ توازن متاثر ہوا تو پورا نظامِ انصاف متاثر ہوگا۔ انہوں结合انہوں نے وکلا برادری سے اپیل کی کہ وہ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق اور پیشہ ورانہ وقار کے تحفظ کے لیے آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے جدوجہد جاری رکھیں۔
