بلوچستان میں بدامنی، اور قدرتی آفات: خضدار میں ہندو تاجر بازیاب، فائرنگ اور حادثات میں 9 افراد جاں بحق اور 20 زخمی

خضدار، کوئٹہ، تربت، اوستہ محمد، دالبندین، ڈیرہ مراد جمالی، تمبو، ڈیرہ اللہ یار، صحبت پور، نوتال، جھل مگسی، کنڈملیر (قدرت روزنامہ) بلوچستان کے مختلف اضلاع میں ہونے والے جرائم، دہشت گردی، ٹریفک حادثات، اور طوفانی بارشوں و آسمانی بجلی گرنے کے باعث 2 بچوں سمیت 9 افراد جان کی بازی ہار گئے، 2 خواتین سمیت 20 افراد شدید زخمی ہوئے، جبکہ آسمانی بجلی گرنے سے 206 مویشی بھی ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب لسبیلہ میں ٹرالر مافیا کے حملے میں 2 ماہی گیر زخمی ہوئے جبکہ خضدار پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈیڑھ کروڑ تاوان کے لیے اغوا کیے گئے ہندو تاجر کو بازیاب کروا لیا۔
قدرتی آفات اور حادثات میں 4 ہلاکتیں اور 206 جانور ہلاک:
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق، موسی خیل، نصیر آباد، اور جعفر آباد میں گزشتہ روز شدید بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور طوفانی ہواؤں کے باعث ہونے والے حادثات میں 2 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ ڈیرہ اللہ یار میں طوفانی بارش سے دیوار گرنے سے نوجوان حسنین سرھیو ہلاک ہوا، جبکہ شہید محمد مراد جمالی اسٹیڈیم کے قریب بجلی کے کھمبے گرنے سے ایک خاتون سمیت 8 افراد زخمی ہوئے۔ تمبو خانکوٹ کی حدود میں مگسی شاخ ساٹھ ڈپ کے قریب آسمانی بجلی گرنے سے دو سگے بہن بھائی، علی رضا اور گل نگاہ لہڑی، جاں بحق اور اسماعیل علی زخمی ہوئے۔ اسی طرح پٹ فیڈر بیرون منجھو شوری کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے چرواہا وزیر خان جاں بحق اور رحم علی زخمی ہوئے، جبکہ وہاں موجود 200 سے زائد بھیڑ بکریاں بھی جھلس کر ہلاک ہو گئیں۔ جھل مگسی کے گاؤں قاضی اسماعیل میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بیل، 1 گائے اور 6 بکریاں ہلاک ہوئیں۔
بدامنی، فائرنگ، اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات:
کوئٹہ کے علاقے نیو سریاب میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک ریڑھی بان قتل ہو گیا، پولیس کے مطابق یہ واقعہ بظاہر ذاتی رنجش کا نتیجہ ہے۔ تمپ کے علاقے کونشقلات میں مسلح افراد نے مسافر بس کو روک کر عامر نور کو ان کی اہلیہ کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا جبکہ ان کی اہلیہ بھی زخمی ہوئیں۔ اوستہ محمد کے ایری لاڑو بکھیرہ میں پرانی دشمنی پر مسلح افراد نے نوجوان رجب علی لہڑی کو قتل کیا۔ ڈیرہ مراد جمالی کے لانگو محلہ میں دو سگے بھائیوں کی معمولی تکرار خونی تصادم میں بدل گئی، جس میں ایک بھائی عمران علی جاں بحق اور دوسرا، اسرار احمد، شدید زخمی ہو گیا۔ صحبت پور کے تھانہ عادل پور کی حدود میں بگٹی اور گاجانی قبائل کے درمیان زمین کے تنازع پر فائرنگ رکوانے کی کوشش کرنے والا خیرخواہ میواہ بگٹی موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ بگٹی قبیلے کے مزید دو افراد زخمی ہوئے۔ ادھر گنداواہ کے لانڈھی روڈ پر ڈکیتی کے دوران ڈاکوؤں کی فائرنگ سے میاں بیوی محمد اسماعیل مگسی اور سداراں بی بی شدید زخمی ہو گئے، جبکہ دالبندین کی شاپنگ گلی میں مزدوروں کے رہائشی مکان پر نامعلوم افراد کے دستی بم حملے میں 5 مزدور زخمی ہوئے۔
خضدار پولیس کی کامیاب کارروائی:
صوبے میں جرائم کے اس گراف کے درمیان خضدار سے ایک مثبت خبر آئی، جہاں ایس ایچ او سٹی منیر عالم جتک اور ان کی ٹیم نے بہترین حکمت عملی اور 26 دن کی انتھک محنت کے بعد یکم اپریل کو کھنڈ کے علاقے سے اغوا کیے گئے ہندو تاجر سروند کمار کو قلات سے بحفاظت بازیاب کروا لیا۔ ملزمان نے مغوی کے اہل خانہ سے ڈیڑھ کروڑ روپے تاوان مانگا تھا۔ پولیس نے کامیاب چھاپے کے دوران تین اغوا کاروں وحید احمد، ناصر احمد (قلات) اور ناصر احمد زہری (خضدار) کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ مغوی کے اہل خانہ اور ہندو برادری نے پولیس کو روایتی اجرک پہنائی اور پھول نچھاور کر کے خراج تحسین پیش کیا۔
کنڈملیر میں ٹرالر مافیا کا ماہی گیروں پر حملہ:
لسبیلہ کے ساحلی علاقے کنڈملیر کی سمندری حدود میں سندھ اور کراچی سے آنے والے غیر قانونی ٹرالر مافیا نے چھوٹے مقامی ماہی گیروں پر پتھراؤ کر کے 2 ماہی گیروں کو شدید زخمی کر دیا۔ ماہی گیروں نے الزام لگایا ہے کہ محکمہ فشریز کے کچھ کرپٹ افسران نے رشوت کے عوض ان ٹرالرز کو سمندری حدود میں شکار کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے، جس سے نہ صرف ان کے جال تباہ ہو رہے ہیں بلکہ ان کا روزگار بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ ماہی گیروں نے وزیراعلیٰ بلوچستان اور متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے اور جان و مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
پولیس نے تمام متعلقہ تھانوں کی حدود میں پیش آنے والے واقعات کے مقدمات درج کر کے قانونی کارروائی اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
write English news With headline
