بلوچستان ہائی کورٹ کا اسمبلی عمارت کی ممکنہ مسماری کے ٹینڈر پر عبوری حکمِ امتناع جاری

محکمہ مواصلات و تعمیرات کو 7 مئی کو ٹینڈر کھولنے سے روک دیا گیا، مزید کارروائی 11 مئی تک معطل


کوئٹہ (ڈیلی قدرت کوئٹہ)بلوچستان ہائی کورٹ نے بلوچستان اسمبلی کی عمارت کی ممکنہ مسماری سے متعلق جاری کیے گئے ٹینڈر نوٹس پر عبوری حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو مزید کارروائی سے روک دیا ہے۔یہ حکم پیر کے روز چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس نجم الدین مینگل پر مشتمل ڈویژن بینچ نے آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ درخواستیں امان اللہ کنرانی ایڈوکیٹ اور نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔عدالت نے محکمہ مواصلات و تعمیرات (C&W) کو ہدایت کی ہے کہ وہ 7 مئی 2026 کو مجوزہ ٹینڈر نوٹس نہ کھولے، اور اس عمل کو اگلی سماعت یعنی 11 مئی 2026 تک معطل رکھا جائے۔سماعت کے دوران امان اللہ کنرانی نے اپنے دلائل خود پیش کیے، جبکہ نوابزادہ لشکری رئیسانی کی جانب سے سیال خان کاکڑ ایڈوکیٹ اور محمد ریاض احمد ایڈوکیٹ پیش ہوئے۔ حکومتِ بلوچستان کی نمائندگی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل شہیک بلوچ نے کی۔درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ بلوچستان اسمبلی کی عمارت ایک تاریخی اور قومی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہے، جسے گرانے کا فیصلہ نہ صرف قانونی تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ عوامی مفاد کے بھی منافی ہے۔عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد ٹینڈر کے عمل کو روک دیا اور مزید سماعت 11 مئی تک ملتوی کر دی۔

WhatsApp
Get Alert