محکمہ صحت بلوچستان نے دوہری ملازمت کے الزام میں 40 ڈاکٹروں کو حتمی نوٹسز جاری کردیے


کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے محکمہ صحت میں بڑے پیمانے پر انتظامی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے جہاں 40 ڈاکٹروں کے بیک وقت دو مختلف ملازمتیں کرنے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے سخت کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ صحت بلوچستان نے ان تمام ڈاکٹروں کو حتمی نوٹسز جاری کرتے ہوئے وضاحت طلب کرلی ہے اور واضح کیا ہے کہ مقررہ وقت میں جواب جمع نہ کرانے یا غیر تسلی بخش وضاحت کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹرز کے خلاف برطرفی سمیت سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی محکمہ صحت کی جانب سے جاری نوٹس کے مطابق دوہری ملازمت میں ملوث 40 ڈاکٹروں میں 7 مستقل جبکہ 33 کنٹریکٹ پر تعینات ڈاکٹرز شامل ہیں۔ محکمانہ ریکارڈ کے مطابق ان ڈاکٹرز کو گزشتہ چار سے پانچ ماہ سے مسلسل نوٹسز جاری کیے جارہے تھے تاکہ وہ اپنی پوزیشن واضح کرسکیں، تاہم بیشتر ڈاکٹرز کی جانب سے تاحال کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
مسلسل عدم تعاون اور خاموشی کے باعث محکمہ صحت نے اب انہیں حتمی نوٹس جاری کردیا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت کو کافی عرصے سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ بعض ڈاکٹرز سرکاری ملازمت کے ساتھ ساتھ دیگر سرکاری اداروں، نجی اسپتالوں یا مختلف محکموں میں بھی فرائض انجام دے رہے ہیں، جو سرکاری سروس رولز اور ملازمت کے ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی ہے۔
اس صورتحال کے باعث نہ صرف سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات متاثر ہورہی ہیں بلکہ عوام کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے محکمہ صحت کے ایک اعلی افسر نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کے لیے بیک وقت دو مختلف اداروں میں ملازمت کرنا قواعد کے خلاف ہے، خاص طور پر صحت جیسے حساس شعبے میں اس قسم کی بے ضابطگیاں ناقابل برداشت ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر متعلقہ ڈاکٹرز مقررہ مدت میں جواب جمع نہ کراسکے تو انہیں ملازمت سے فارغ کرنے کے ساتھ دیگر قانونی کارروائی بھی کی جاسکتی ہے۔دوسری جانب حکومت بلوچستان نے معاملے کو مزید سنجیدگی سے لیتے ہوئے محکمہ صحت سمیت دیگر سرکاری محکموں کے ملازمین کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے مختلف سرکاری اہلکاروں کا ڈیٹا نادرا، پاسپورٹ آفس اور محکمہ داخلہ سے طلب کرلیا ہے تاکہ ملازمین کے کوائف، سروس ریکارڈ اور ممکنہ بے ضابطگیوں کی مکمل چھان بین کی جاسکیذرائع نے یو این ایکو بتایا ہے کہ مختلف محکموں کے سرکاری اہلکاروں کے کوائف کا تقابلی جائزہ لینے کے بعد ایسے تمام ملازمین کی نشاندہی کی جائے گی جو قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی میں ملوث پائے گئے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد ان ملازمین کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کا آغاز کیا جائے گا حکومتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام سرکاری اداروں میں شفافیت، نظم و ضبط اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے کیا جارہا ہے تاکہ عوامی وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جاسکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ کسی بھی سرکاری ملازم کو قواعد سے ہٹ کر دوہری ملازمت یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس انکشاف کے بعد محکمہ صحت سمیت دیگر سرکاری اداروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے تو یہ سرکاری اداروں میں احتساب کے عمل کو مزید مثر بنانے میں اہم پیش رفت ثابت ہوسکتی ہے۔

WhatsApp
Get Alert