خیبر پختونخوا: چارسدہ میں نشانہ بننے والے شیخ الحدیث مولانا ادریس کون تھے؟


چارسدہ(قدرت روزنامہ)خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں مذہبی و سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ایک سینئر رہنما اور معروف مذہبی شخصیت مولانا محمد ادریس کو منگل کے روز ایک ٹارگٹڈ حملے میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
چارسدہ پولیس اور ڈپٹی کمشنر چارسدہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا شیخ محمد ادریس، ایک معروف عالم دین اور جے یو آئی (ف) ضلع چارسدہ کے سرپرستِ اعلیٰ، کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گھر سے مدرسے جا رہے تھے۔ فائرنگ کا واقعہ چارسدہ کے علاقے اتمائزئی میں پیش آیا، جس میں ان کے ساتھ سیکیورٹی کے لیے تعینات 2 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔
پولیس نے بتایا کہ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے اور مولانا کو ان کی گاڑی میں نشانہ بنانے کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ مولانا کی نماز جنازہ شام 5 بجے آبائی علاقے میں ادا کی جائے گی، جبکہ جے یو آئی نے واقعے کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی نے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں۔
پولیس کیا کہتی ہے؟
چارسدہ پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد تمام زخمیوں کو چارسدہ کے ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے مولانا ادریس کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں زخمی پولیس اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور پورے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پولیس ٹیم نے جائے وقوعہ سے شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں۔
چارسدہ پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق مولانا ادریس صوبے کی ایک معروف مذہبی و سیاسی شخصیت تھے اور کچھ عرصے سے انہیں دھمکیاں بھی مل رہی تھیں۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مولانا ادریس دہشتگرد عناصر کے خلاف تھے اور ان کے خلاف کھل کر بولتے تھے، جس کی وجہ سے انہیں سیکیورٹی خدشات لاحق تھے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس کیس کی ہر پہلو سے تفتیش کر رہی ہے، تاہم مزید تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کیا گیا۔
مولانا شیخ محمد ادریس، جو جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی تھے، اس وقت مسلح افراد کے حملے میں جاں بحق ہوئے جب وہ پولیس سیکیورٹی کے ہمراہ اپنے مدرسے جا رہے تھے۔ انہیں متعدد گولیاں لگیں اور وہ اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ حملہ آور فوری طور پر فرار ہو گئے اور کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
ضلعی پولیس کے مطابق واقعے کے بعد چارسدہ کے مختلف علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا، جہاں مولانا کے حامیوں اور طلبا نے سڑکوں پر نکل کر مظاہرہ کیا۔ مقامی انتظامیہ نے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا۔
انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس افسر کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ذمہ داروں کی جلد گرفتاری کے لیے فوری کارروائی کا حکم بھی دیا۔
آئی جی پولیس نے اپنے بیان میں شیخ ادریس کی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دینی و قومی خدمات اور قربانیاں قوم ہمیشہ یاد رکھے گی۔
ابتدائی زندگی، تعلیم؟
مولانا محمد ادریس کا تعلق چارسدہ کے علاقے ترانزئی سے تھا اور وہ 1961 میں وہاں کے معروف مذہبی شخصیت حکیم مولانا عبدالحق کے ہاں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے علاقے میں واقع مدرسہ جامعہ نعمانیہ سے حاصل کی اور مزید مذہبی تعلیم کے لیے اکوڑہ میں واقع دارالعلوم حقانیہ میں داخلہ لیا۔
مولانا ادریس نے مذہبی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم بھی جاری رکھی اور جامعہ پشاور سے اسلامیات اور عربی میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ مذہبی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا ادریس نے بچوں کو دینی تعلیم دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے مادرِ علمی جامعہ نعمانیہ سے منسلک ہو گئے اور آخری دم تک وہاں تدریس کرتے رہے۔
ادریس، مولانا شیخ حسن جان کے داماد تھے، جنہیں 2007 میں پشاور میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کا قتل خیبر پختونخوا میں جے یو آئی (ف) رہنماؤں کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، جہاں مذہبی و سیاسی شخصیات کو مسلسل شدت پسندی کا سامنا ہے۔
سیاسی زندگی
دینی تعلیم کے ساتھ مولانا ادریس سیاست میں بھی سرگرم تھے اور شروع دن سے جے یو آئی (ف) سے وابستہ تھے۔ وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور ڈپٹی اسپیکر بھی رہے۔ جے یو آئی میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ جے یو آئی چارسدہ کے امیر رہے جبکہ اس وقت وہ جے یو آئی چارسدہ کے سرپرستِ اعلیٰ تھے۔
مولانا ادریس ملک میں قیامِ امن کے لیے سرگرم تھے۔ سال 2024 میں وہ مولانا فضل الرحمان کے ہمراہ افغانستان گئے تھے، جہاں انہوں نے افغان طالبان قیادت سے ملاقات کی، جس کا مقصد تحریک طالبان پاکستان سے متعلق سرحد پار سیکیورٹی مسائل پر بات چیت کرنا تھا۔

WhatsApp
Get Alert