حکومت کا عوام دوست منصوبہ! الیکٹرک بائیک اسکیم فیز 2 کا آغاز؛ جانیں مکمل تفصیل

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)وفاقی حکومت نے پاکستان میں ماحول دوست سواریوں کے فروغ اور پٹرول کی بچت کے لیے پرائم منسٹر الیکٹرک بائیک اور رکشہ اسکیم 2026 کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کی خریداری پر بھاری سبسڈی اور آسان اقساط کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق پہلے مرحلے میں 41 ہزار گاڑیوں کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا تھا جبکہ اس دوران 2 لاکھ 69 ہزار سے زائد افراد نے درخواستیں جمع کروائیں جن میں سے 41 ہزار کو منتخب کیا گیا۔ اب تک 1,334 الیکٹرک بائیکس فراہم کی جا چکی ہیں جبکہ سبسڈی کی رقوم براہِ راست مستحق افراد کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی جا رہی ہیں۔
فیز ٹو کے تحت حکومت ہر الیکٹرک بائیک پر 80 ہزار روپے سبسڈی فراہم کرے گی۔ دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ تین ماہ کے دوران مزید ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس متعارف کروائے جانے کا امکان ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق گریڈ 16 تک کے سرکاری ملازمین بغیر سود کے بائیک یا رکشہ حاصل کر سکیں گے۔ مستفید افراد کو 10 ہزار روپے پیشگی ادا کرنا ہوں گے جبکہ باقی رقم تنخواہ سے قسطوں کی صورت میں وصول کی جائے گی۔اسکے ساتھ کمپنیوں کو اب گاڑیاں براہِ راست صارفین تک پہنچانی ہوں گی جبکہ حکومت سبسڈی کی ادائیگی ڈیلیوری کے بعد کمپنیوں کو کرے گی۔
حکومت نے بائیکس، رکشوں اور لوڈرز کے لیے درخواست دینے کا عمل مزید آسان اور کم لاگت بنا دیا ہے۔ تمام درخواستیں پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر منظور ہوں گی تاہم صوبائی کوٹے برقرار رہیں گے۔ اس اسکیم میں فلیٹ آپریٹرز اور بڑی کمپنیوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ سرکاری کالجوں کے 600 نمایاں پوزیشن ہولڈرز کو الیکٹرک بائیکس مفت دی جائیں گی۔
دستاویز میں کہا گیا ہے کہ فراڈ اور بے ضابطگیوں سے بچاؤ کے لیے تھرڈ پارٹی ویریفکیشن کا نظام بدستور جاری رہے گا۔ اس توسیعی منصوبے کے تحت رواں سال 1 لاکھ 16 ہزار الیکٹرک بائیکس اور 3,170 رکشے و لوڈرز تقسیم کیے جائیں گے جبکہ اندازہ ہے کہ تین ماہ میں تقریباً 8.6 ملین لیٹر ایندھن کی بچت ممکن ہوگی۔
واضح رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) پہلے ہی اس توسیعی فیز ٹو منصوبے کی منظوری دے چکی ہے۔
