صحافی مطیع اللہ جان کی مشکلات بڑھ گئی؟ خواجہ سعد رفیق نے قانونی جنگ چھیڑ دی

اسلام آباد(قدرت روزنامہ)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سوشل میڈیا پر جاری کردار کشی اور جھوٹے الزامات کی مہم پر قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016 کے تحت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسلام آباد میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا ہے اور اپنے خلاف چلائی جانے والی مہم پر تفصیلی شکایت درج کروائی۔
سعد رفیق نے واضح کیا کہ ان کے، ان کے اہل خانہ یا ان کے کسی عملے کے رکن کی جانب سے کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ میں کسی قسم کی سرمایہ کاری یا ملکیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ان کے بارے میں میڈیا مینیجر یا کسی سرمایہ کاری کے دعوے مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف چلائی جانے والی مہم دراصل منظم کردار کشی ہے اور انہوں نے اس سے قبل بھی 9 اپریل 2026 کو ایک متعلقہ ٹوئٹ کے جواب میں اس معاملے کی وضاحت دی تھی۔
سینئر رہنما نے سوال اٹھایا کہ ان الزامات کے پیچھے کون لوگ ہیں، اور ان میں مختلف طبقات شامل ہیں جن میں سیاسی مخالفین کے حامی، مخصوص سوشل میڈیا اکاؤنٹس چلانے والے افراد، اور وہ لوگ شامل ہیں جو ان کے مطابق مختلف سیاسی مؤقف رکھنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ ذاتی مفادات یا سیاسی اختلافات کی بنیاد پر جھوٹے الزامات پھیلا رہے ہیں جبکہ بعض ذہنی دباؤ یا غلط فہمیوں کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں۔
سعد رفیق نے دوٹوک انداز میں کہا کہ نہ وہ اور نہ ان کا خاندان کونسٹی ٹیوشن-1 پروجیکٹ یا کسی اپارٹمنٹ کے مالک ہیں اور نہ ہی انہوں نے کبھی اس منصوبے میں سرمایہ کاری کی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بعض دوست اور جاننے والے اس منصوبے میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں، جنہیں وہ ان کی سرمایہ کاری پر مبارکباد دیتے ہیں۔
