ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی 2023ء کی کابینہ غیر آئینی ہے، شفاف انتخابات کرائے جائیں، ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل

کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)ینگ ڈاکٹر ایکشن کمیٹی کے رہنمائوں ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل‘ڈاکٹر ابرار کاکڑ نے کہا ہے کہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن بلوچستان ڈاکٹرو ں کی ایک نمائندہ تنظیم ہوا کرتی تھی لیکن بد قسمتی سے وہ اب سپریم کونسل کے نام سے ایک مشاورتی کونسل کے ہاتھوں یرغمال ہو چکا ہے تنظیم میں جمہوریت کی بجائے صرف نام نہاد مشاورتی کونسل کی جانس سے من پسند افراد کو عہدیدار بنا کر ایک پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی 2023 کی تشکیل کر دہ کابینہ غیر قانونی غیر آئنی ہے صاف شفاف انتخابات کر کے نئی کابینہ تشکیل دی جائے ‘یہ بات انہوںنے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ڈاکٹر نور علی‘ڈاکٹر میائل مری‘ڈاکٹر عارف موسیٰ خیل اور دیگر ڈاکٹر بھی موجود تھے ڈاکٹر طاہر موسیٰ خیل نے کہا ہے کہ سال 2023 کے ماہ اپریل میں ایک غیر آئینی کابینہ تشکیل دی گئی تھی جس کا فیصلہ بند کمروں میں کیا گیا تھا ہم اس دن سے لیکر آج تک تنظیم میں جاری غیر آئینی فیصلوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں ڈاکٹرز کیمونیٹی کی جانب سے ہم نے میڈیا کے ساتھیوں سمیت محکمہ صحت کے تمام تنظیمو کو اس غیر جمہوری عمل سے اگاہ کیا گیا ہے اور کررہے ہیں لیکن گزشتہ 3 سالوں سے مسلسل ہماری جدوجہد اور اور جمہوری انداز کو مسترد کیا جارہا ہے انہوںنے کہا ہے کہ سال 2023 کی کابینہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے کابینہ کی تحلیل کر کے جمہوری انداز میں ووٹ کے ذریعے نئی کابینہ تشکیل دیا جائے سپریم کونسل جو ایک مشاورتی کونسل ہے اس کا تنظیمی ڈھانچہ کی تشکیل میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے انہوںنے کہا ہے کہ جمہوری اکابینہ اپنے فیصلوں میں خود مختار ہونی چاہئے لیکن بد قسمتی سے یہاں فیصلے سپریم کونسل کے ماتحت ہوتے ہیں جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے جس کو ہم مسترد کرتے ہیں ۔
