بلوچستان کے قبائلی رہنماؤں کا سی سی ڈی پنجاب کے ہاتھوں قتل پر حکومتی خاموشی نے عوامی بے چینی بڑھا دی — امان اللہ کنرانی


کوئٹہ(ڈیلی قدرت کوئٹہ)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے گذشتہ دنوں سوئی ڈیرہ بگٹی کے 3 سگے بھائیوں قبائلی رہنماؤں جو وڈیرہ خان محمد کلپر بْگٹی مرحوم کے فرزند تھے پنجاب کی سی ٹی ڈی فورس نے دھوکے سے رحیم یار خان بْلاکر بے گناہ قتل کردیا پنجاب پولیس و حکومت کو معلوم ہونا چاہئے وڈیرہ خان محمد کلپر بْگٹی مرحوم سوئی ڈیرہ بْگٹی میں پاکستان کی پہچان تھے سوئی گیس کی دریافت میں مدد اور اس کی تحفظ جہاں نواب محمد اکبر خان بْگٹی شہید اور ان کے خاندان نے کی وہاں وڈیرہ خان محمد خان کلپر اور اس کا خاندان انکا دست و بازو تھے اور انکی قومی خدمات قابل تحسین رہے ہیں وڈیرہ خان محمد کلپر اور ان کے خاندان کو سوئی میں پی پی ایل نے سرکاری طور پر ان کو نواب بگٹی کے بعد وی آئی پی 2 کا درجہ دے رکھا ہے ایسے زیرک ملک دوست معزز قبائلی رہنما کے تین بیٹوں کو بے دردری سے شہید کرنا شدید قابل مذمت و افسوسناک سانحہ ہے وہاں یہ قبائل پر نہیں پاکستان پر حملہ ہے وڈیرہ خان محمد کلپر نے پاکستان اور اس کے جھنڈے تلے بڑی آزمائشوں سے اس کو سربلند رکھا مگر اس کے ساتھ ایک سرکاری ادارے کا یہ رویہ ریاست و عوام کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کا دانستہ حربہ ہے جس سے سوئی سمیت ڈیرہ بْگٹی قبائل میں بے حد اضطراب پایا جاتا ہے اس لئے ہم فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفس فورس و چیف آف آرمی سٹاف حافظ سید عاصم منیر ،حکومت بلوچستان سمیت وفاقی وزیر داخلہ مْحسن نقوی سے خصوصی توجہ و دادرسی کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ صوبائی حکومت پنجاب و وفاقی حکومت میں خاندانی اثرات کے باعث سی ٹی ڈی کے خلاف کاروائی ممکن نظر نہیں آتی اس لئے غیر جانبدار اداروں کو اس گھناؤنے جْرم کے خلاف فوری کاروائی کرتے ہوئے موثر اقدام اْٹھانا چاہئے تاکہ پسماندگان کو تسلی و تشفی ہوسکے اور ان کے خون ناحق کا قانونی ازالہ ہوسکے ملک کی گیس کی پیداواری کے علاقے میں عوام کی تشویش کو تشفی میں بدلا جا سکے

WhatsApp
Get Alert