مستونگ میں محکمہ کسٹمز کے گودام میں آتشزدگی، بی بی سی تفصیلات منظرعام پر لے آیا

کوئٹہ(قدرت روزنامہ)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس میں محکمہ کسٹمز کے ایک گودام میں آگ لگی تھی جس کے بارے میں بی بی سی اردوتفصیلات سامنے لے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تاحال محکمہ کسٹمز نے گودام میں موجود نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا تاہم گاڑیوں کی حد تک عمردین(فائربریگیڈ اہلکار) کا اندازہ تھا کہ وہاں آگ سے 200 سے زیادہ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔10 مئی کو گودام میں لگنے والی اس آگ کی بازگشت جمعرات کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی جہاں اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رحمت بلوچ کا کہنا تھا کہ جتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کو اس آگ سے نقصان پہنچا ہے شاید اتنا نقصان ’امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ سے گاڑیوں کا نہیں ہوا ہوگا۔‘
سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی نے اس آگ کے حوالے سے رولنگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کو اس سلسلے میں تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔یہاں کوئٹہ کراچی ہائی وے پر محکمہ کسٹمز کا چیک پوسٹ اور بڑا گودام موجود ہے جہاں مختلف کارروائیوں میں پکڑی جانے والی غیر ملکی اشیا اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو رکھا گیا تھا۔
فائر بریگیڈ کوئٹہ کے عملے میں شامل عمر دین کھیتران نے بتایا کہ وہ جب لکپاس پہنچے تو ہوا تیز ہونے کی وجہ سے نہ صرف آگ کی شدت بہت زیادہ تھی بلکہ یہ وسیع و عریض علاقے پر پھیلی ہوئی تھی، حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید گاڑیاں منگوا کر آگ بجھانے کی کوششوں کا آغاز کر دیا گیا لیکن اس پر قابو پانے میں بہت زیادہ وقت لگا، گودام میں جہاں تیزی سے آگ پکڑنے والی اشیا موجود تھیں وہاں ایل پی جی کے ٹینکرز بھی تھے جن میں سے بعض کے پھٹنے سے دھماکے ہوئے۔عمر دین کھیتران نے بتایا کہ ان کے لیے نقصان کا تخمینہ لگانا ممکن نہیں لیکن ’وہاں میں نے بہت بڑی تباہی دیکھی۔‘
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر عطااللہ مینگل نے بتایا کہ ایل پی جی ٹینکر کے پھٹنے سے 35 لوگ زخمی ہوئے جن میں سے 20 افراد کو 30 فیصد تک زخم آئے جبکہ سات کی حالت تشویشناک تھی۔
آگ کے بعد صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جائے وقوعہ جانے والے کوئٹہ کے ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ محکمہ کسٹمز کی جانب سے جو ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے اس کے مطابق اس گودام میں غیر ملکی سگریٹ، چھالیہ، ٹائر، کپڑے، گاڑیاں اور پٹرولیم مصنوعات وغیرہ موجود تھیں۔
جمعرات کو کسٹمز کے گوداموں میں آگ بھڑکنے کی بازگشت بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں بھی سنائی دی۔حزب اختلاف کی جماعت نیشنل پارٹی کے رکن بلوچستان اسمبلی رحمت بلوچ نے اس حوالے سے بحث کے دوران یہ دعویٰ کیا کہ آگ سے 15 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں کسٹمز کے گودام میں آگ لگنے کے واقعے پر بحث کے دوران دو اراکین اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ یہ آگ لگی نہیں ہے بلکہ ’لگائی گئی ہے۔‘انھوں نے اسے سازش قرار دیتے ہوئے سپیکر سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں انکوائری کمیٹی بنائیں اور اس میں اسمبلی اور عدلیہ کو بھی شامل کیا جائے کیونکہ تاجروں کا بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام سے تعلق رکھنے والے حزب اختلاف کے رکن اصغر ترین نے الزام عائد کیا کہ گاڑیوں کی مبینہ چوری کے بعد گودام میں آگ لگا دی گئی۔نیشنل پارٹی کے رکن رحمت بلوچ نے بھی یہ کہا کہ ایک سازش کے تحت گودام میں آگ لگائی گئی۔
پارلیمانی سیکرٹری میر لیاقت لہڑی کا کہنا تھا کہ چیف کلیکٹر کسٹمز کو اسمبلی میں طلب کرکے ان سے واقعے کے بارے میں بریفنگ لی جائے تاہم سپیکر بلوچستان اسمبلی نے رولنگ دیتے ہوئے چیف سیکرٹری بلوچستان کو ہدایت کی کہ وہ اس سلسلے میں تحقیقاتی کمیٹی بنائیں جو 30 دنوں میں اپنی رپورٹ اسمبلی میں پیش کرے۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رحمت بلوچ نے کہا کہ جلنے والا سامان اور گاڑیاں یہاں کے تاجروں کی تھیں۔ ان کے کیسز عدالتوں میں تھے جبکہ بعض کیسز میں عدالتوں سے تاجروں کے حق میں ریلیز آرڈر بھی ایشو ہوئے تھے لیکن ان کا سامان اور گاڑیاں اس آگ میں جل گئیں۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ آگ کی وجہ سے تاجروں کا جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے۔
