یہ ہےحضرت حلیمہ سعدیہؓ کا و ہ نصیبو ں و ا لاگھر جہا ں ر حمت د و عا لم ﷺ نے ا پنا بچپن گز ا ر ا


سعودی عرب کے علاقے حدیبیہ کے صحرائی خطے بنو سعد میں موجود تاریخی کھنڈرات کو حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر کی باقیات قرار دیا جاتا ہے، جہاں نبی کریم ﷺ نے اپنی ابتدائی زندگی کے چند سال گزارے۔ اسلامی روایات کے مطابق حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے رسول اللہ ﷺ کی رضاعت اور پرورش کی سعادت حاصل کی تھی۔
عرب میں اُس دور میں یہ روایت عام تھی کہ مکہ کے لوگ اپنے نومولود بچوں کو چند برس کے لیے بدوی خواتین کے سپرد کرتے تھے تاکہ بچے صحرائی ماحول میں مضبوط نشوونما پائیں اور خالص عربی زبان سیکھ سکیں۔ اسی سلسلے میں حضرت عبدالمطلب اپنے پوتے حضرت محمد ﷺ کے لیے ایک دایہ کی تلاش میں تھے۔
روایات کے مطابق بنو سعد کی خواتین جب مکہ پہنچیں تو یتیم بچے کی کفالت سے اس خیال کے تحت گریز کیا گیا کہ اس کے خاندان سے زیادہ مالی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ تاہم حضرت حلیمہ سعدیہؓ اور ان کے شوہر حارث بن عبدالعزیٰ نے رحم دلی کے تحت حضرت محمد ﷺ کو اپنے ساتھ لے جانے کا فیصلہ کیا۔
اسلامی روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آمد کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہؓ کے گھر میں برکتوں کا نزول شروع ہو گیا۔ قحط سالی کے باوجود ان کے جانوروں میں دودھ کی فراوانی ہو گئی اور گھر کے حالات بہتر ہونے لگے۔
حضرت محمد ﷺ نے ابتدائی چند سال بنو سعد کے اسی علاقے میں گزارے۔ بعد ازاں واقعہ شقِ صدر کے بعد حضرت حلیمہ سعدیہؓ نے آپ ﷺ کو مکہ واپس حضرت آمنہؓ کے سپرد کر دیا۔
حضرت حلیمہ سعدیہؓ کا وصال 8 ہجری میں ہوا اور آپؓ کو Jannat al-Baqi میں سپرد خاک کیا گیا۔

WhatsApp
Get Alert