حکومت نے 5.3 ارب روپے کا ہیلی کاپٹر خریدنے کی منظوری دے دی

معاہدے میں ہیلی کاپٹر کرائے پر لینے کیلئے 60 کروڑ روپے موجود تھے، لیکن مستقل خریداری کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک روسی کمپنی سے دو نئے Mi17V5 ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ بھی طے پا گیا


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)حکومت نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے 5.3 ارب روپے کا ہیلی کاپٹر خریدنے کی منظوری دے دی۔ ٹریبیون میں شائع صحافی شہباز رانا کی خبر کے مطابق وزارتِ منصوبہ بندی نے بتایا ہے کہ سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی ( سی ڈی ڈبلیو پی ) کا اجلاس چیئرمین اور وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت ہوا، اس اجلاس میں دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے 5.3 ارب روپے کا ہیلی کاپٹر خریدنے کی تجویز منظور کرلی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے پی سی ون میں ترمیم صرف ہیلی کاپٹر کی خریداری کی حد تک مانگی تھی، اس ضمن میں واپڈا کا مؤقف تھا کہ منصوبے پر کام کرنے والے غیر ملکیوں بالخصوص چینی انجینئرز اور ماہرین کو ماضی میں دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی بھی حادثے یا طبی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد، اعلیٰ حکام اور وفود کے دورے، چینی و دیگر غیر ملکی ماہرین کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کیلئے ہیلی کاپٹر درکار ہے۔


معلوم ہوا ہے کہ معاہدے میں ہیلی کاپٹر لیز یعنی کرائے پر لینے کے لیے 60 کروڑ روپے موجود تھے، لیکن واپڈا نے کرائے کے بجائے مستقل خریداری کی درخواست کی، پاکستان نے اس سلسلے میں ایک روسی کمپنی سے دو نئے Mi17V5 ہیلی کاپٹرز خریدنے کا معاہدہ بھی طے کرلیا ہے۔ یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ دو سال قبل واپڈا نے داسو، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں کے لیے 13.2 ارب روپے مالیت کے تین ہیلی کاپٹر خریدنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن اس وقت احسن اقبال نے سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیبنٹ ڈویژن کے پاس پہلے سے ہیلی کاپٹر اسکواڈرن اور مینٹیننس کا پورا نظام موجود ہے، اس لیے نئے ہیلی کاپٹر خریدنے کے بجائے کیبنٹ ڈویژن کے ہیلی کاپٹرز واپڈا کو ضرورت کے وقت دیے جائیں، تاہم اب انہوں نے یہ گائیڈ لائن تبدیل کرتے ہوئے اربوں روپے کے ہیلی کاپٹر کی خریداری کا گرین سگنل دے دیا۔

WhatsApp
Get Alert