گورنر بلوچستان کا جدید تعلیم، ڈیجیٹل لٹریسی اور مہارتوں کے فروغ پر زور، طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم

کوئٹہ(قدرت روزنامہ) گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ تعلیم کوئی جامد یا مقررہ ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک متحرک، ترقی پذیر اور مسلسل ارتقا پذیر عمل ہے، جسے وقت کے تقاضوں اور انسانی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات وزیر اعظم کی لیپ ٹاپ اسکیم کے تحت منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تقریب میں رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی، اراکین صوبائی اسمبلی کلثوم نیاز بلوچ اور ہادیہ نواز، وائس چانسلر یونیورسٹی آف بلوچستان ڈاکٹر ظہور بازئی، وزیر اعظم کے یوتھ کوآرڈینیٹر بلوچستان حیدر خان اچکزئی، یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے نمائندوں سمیت فیکلٹی اراکین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
گورنر بلوچستان نے کہا کہ روایتی تعلیمی ڈگریوں کے ساتھ جدید مہارتوں، پروفیشنل ٹریننگ اور ڈپلومہ کورسز کی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈگری اور مہارت ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور جدید مہارتیں اکیڈمک تعلیم کو مزید مؤثر بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران آن لائن تعلیم نے تعلیمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یورپی یونین اور آئی بی اے سکھر یونیورسٹی کے تعاون سے یونیورسٹی آف بلوچستان اور یونیورسٹی آف تربت میں آن لائن نظام کی تنصیب ایک اہم پیش رفت ہے، جسے دیگر سرکاری جامعات تک بھی توسیع دی جانی چاہیے۔
جعفر خان مندوخیل نے بتایا کہ صوبے کی سرکاری جامعات کی رینکنگ اور اسکورنگ کو 40 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد تک پہنچانے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے، جس کا سہرا وفاقی حکومت، صوبائی حکومت، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر اداروں کے تعاون کو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں ڈیجیٹل لٹریسی اور آن لائن لرننگ تعلیمی نظام کے اہم ستون بن چکے ہیں۔ جدید چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور ترقی کی نئی منازل طے کرنے کے لیے تعلیمی پالیسیوں اور نصاب کو مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا تاکہ سماجی علوم، طب اور ٹیکنالوجی سمیت تمام شعبے یکساں طور پر ترقی کر سکیں۔
اس موقع پر رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) موجودہ دور کی ایک طاقتور حقیقت ہے اور نوجوانوں کو محض صارف بننے کے بجائے تخلیق کار اور جدت کار بننا ہوگا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پبلک سیکٹر جامعات کے مسائل قومی اسمبلی کے فورم پر متعلقہ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔
تقریب کے اختتام پر گورنر بلوچستان نے طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کیے جبکہ منتظمین کو یادگاری شیلڈز پیش کیں۔ بعد ازاں انہوں نے اسمارٹ کلاس روم کا افتتاح بھی کیا۔
